لا قانونیت کا مسئلہ
Urdu book, p. 12
By Maulana Wahiduddin Khan
کرنے کے ہم معنی تھا۔ اور جب کسی قوم میں ایک بار قانون شکنی کی روایت قائم کردی جائے تو پھر وہ کسی حد پر نہیں رکتی۔ ڈانڈی مارچ ہندوستان کی تاریخ آزادی کا مشہور واقعہ ہے۔ یہیں سے مہاتما گاندھی کی سول نافرمانی (civil discobedience) کا آغاز ہوتا ہے۔ اس واقعہ کے بعد پورے ملک میں برٹش راج کے خلاف عوامی تحریک اٹھ کھڑی ہوئی۔ لوگ بے خوف ہو کر انگریز حکمرانوں کو ہر جگہ چیلنج کرنے لگے۔ انگریزی قانون کو توڑنا قومی ہیرو بننے کے ہم معنی ہوگیا۔ ایک سال کے اندر 60 ہزار آدمی خوشی خوشی جیل چلے گئے وغیرہ۔ مہاتما گاندھی 12 مارچ 1930 کو سابر متی آشرم سے پیدل روانہ ہوئے تھے۔ ان کے ساتھ 79 آدمی تھے۔ انھوں نے 241 میل کا سفر 24 دن میں طے کیا اور 15 راپریل 1930 کو ساحل سمندر پر پہنچے۔ انھوں نے وہاں ٹیکس کی ادائینگی کے بغیر نمک حاصل کر کے قانون شکنی کے عمل کا آغاز کیا۔ اس پورے راستہ میں گاندھی جی کو اطراف کی بستیوں سے اتنا زبردست استقبال ملا جو کسی بادشاہ کے لیے بھی قابل رشک ہوسکتا تھا۔ مہاتما گاندھی ایک ہیرو کی مانند سابر متی سے ڈانڈی پہنچے۔ وہاں انہوں نے 5 راپریل 1930 کو اپنے قلم سے لکھا کہ میں طاقت کے خلاف حق کی اس جنگ کے لیے عالمی ہمدردی چاہتا ہوں : I want world sympathy in this battle of Right against Might. 12 مارچ 1988 کے دہلی کے اخبارات میں ڈانڈی مارچ کے بارے میں اس قسم کی مختلف تفصیلات شائع ہوئی ہیں ۔ ان کو پڑھ کر مجھے خیال آیا کہ 60 برس پہلے مہاتما گاندھی اور ان کے ساتھی یہ سمجھتے تھے کہ ملک کا اصل مسئلہ ملک سے برٹش راج کو ختم کرنا ہے۔ مگر اس واقعہ کے 60 برس بعد دیکھیے تو معلوم ہوگا کہ اصل مسئلہ "برٹش راج" کو ختم کرنا نہیں تھا بلکہ "نفسانی راج" کو ختم کرنا تھا۔ برٹش راج ختم ہو گیا مگر نفسانی راج مزید

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader