لا قانونیت کا مسئلہ
Urdu book, p. 13
By Maulana Wahiduddin Khan
شدت کے ساتھ باقی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ پورا ملک پہلے سے بھی زیادہ بے امنی اور بدعنوانی کا نمونہ بنا ہوا ہے۔ موجودہ ہندوستان میں کسی شریف اور بااصول آدمی کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ اس لیے موجودہ ہندوستان میں زندہ رہنا ایسا ہی ہے جیسا کانٹوں کے فرش پر زندہ رہنا۔ مہاتما گاندھی کے ساتھ ڈانڈی مارچ (1930) کے قافلہ میں جولوگ شریک تھے، ان میں سے کچھ افراد بوقت تحریر زندہ ہیں۔ ان میں سے ایک مسٹر کپل پر ساد دیو ہیں جن کی عمر اب 88 سال ہو چکی ہے ۔ گاندھی نگر میں انھوں نے ہندوستان ٹائمس (12 مارچ 1988) کے نامہ نگار مسٹر اشوک ویاس سے ماضی کی یادوں کو بتاتے ہوئے کہا کہ ہمارا قافلہ جب چلتے ہوئے سورت پہنچتا تو وہاں کے لوگوں نے ڈانڈی مارچ والوں کے لیے ایک پر تکلف لنچ کا انتظام کیا۔ لوگ شوق سے اس دعوت میں شریک ہوئے اور خوب سیر ہو کر کھایا پیا۔ جب گاندھی جی کو اس کا علم ہوا تو وہ بہت پریشان ہوئے۔ اس سفر کے دوران ہر شام کو وہ مجلس کرتے تھے۔ اس روز شام کی مجلس میں انھوں نے کہا: I think I have committed a Himalayan blunder in selecting the Satyagrahis for this kooch. When majority of the countrymen could not get a bajra roti and chatni or onion how could you think of taking such lavish lunch. میرا خیال ہے کہ میں نے ستیہ گرییوں کو اس کوچ کے لیے منتخب کر کے ہمالیہ پہاڑ کے برابر غلطی کی ہے۔ ملک کے باشندوں کی اکثریت کو کھانے کے لیے باجرہ کی ایک روٹی اور چٹنی یا پیاز بھی نہیں ملتی۔ ایسی حالت میں آپ لوگوں نے کیوں کر یہ سوچا کہ آپ ایسا پر تکلف کھانا کھائیں۔ مہاتما گاندھی اگر آج زندہ ہوتے تو یقیناً وہ محسوس کرتے کہ سورت کی پر تکلف دعوت کو قبول کرنے سے زیادہ بڑی غلطی خود ڈانڈی مارچ کا فیصلہ تھا جو قانون شکنی یا سول نافرمانی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader