تعمیر کی طرف
Urdu book, p. 39
By Maulana Wahiduddin Khan
اس تنوع پر اس کا سارا نظام چل رہا ہے۔ اسی پیٹرن پر انسانوں کے پیدا کرنے والے نے انسانوں کے اندر بھی فرق اور تنوع رکھا ہے۔ اس تنوع کو باقی رکھنے ہی میں انسانیت کی ترقی اور کامیابی ہے۔ اس تنوع کو ختم کرنا ایسا ہی ہے جیسے انسانوں کو یکساں قد کا بنانے کے لیے لوگوں کو نیچے اوپر سے تراش کر برابر کیا جانے لگے۔ حد بندی کا نظام کائنات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہاں حد بندی کا نظام قائم ہے۔ ہر چیز اپنے متعین دائرہ میں رہ کر اپنا کام کرتی ہے، وہ اپنے دائرہ سے نکل کر دوسرے دائرہ میں داخل نہیں ہوتی۔ یہی بات قرآن میں ان لفظوں میں کہی گئی ہے : اور سورج اپنے مستقر پر چلتا ہے، یہ زبردست علم والے کا باندھا ہوا اندازہ ہے۔ اور چاند کے لیے منزلیں مقرر ہیں۔ یہاں تک وہ ایسا رہ جاتا ہے ۔ جیسے کھجور کی ٹہنی ۔ نہ سورج کی مجال ہے کہ وہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات دن سے پہلے آسکتی ہے۔ سب ایک ایک دائرہ میں چل رہے ہیں (یس 38-40: 36)۔ ان آیتوں میں اس فلکیاتی حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اس کائنات کے تمام گھومنے والے ستارے اور سیارے حد درجہ صحت کے ساتھ اپنے اپنے مدار (orbit) میں گھومتے ہیں۔ وہ کبھی اپنی حد کو چھوڑ کر دوسرے کی حد میں داخل نہیں ہوتے۔ یہی حد بندی انسان سے بھی مطلوب ہے۔ چنانچہ قرآن میں کہا گیا ہے کہ جو لوگ اللہ کی قائم کی ہوئی حدوں کی خلاف ورزی کریں وہ اللہ کی نظر میں ظالم ہیں ۔ وَمَنْ يَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّلِمُونَ (البقرة 2:229)۔ یہی بات حدیث میں ان لفظوں میں کہی گئی ہے: وَحَدَّ حُدُودًا فَلَا تَعْتَدُوهَا (المجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر (589)۔ یعنی، اور اللہ نے حدیں قائم کر دی ہیں تو تم ان حدوں کی خلاف ورزی نہ کرو۔ ایک اور حدیث میں اس بات کو مثال کے ذریعے اس طرح واضح کیا گیا ہے:

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader