تعمیر کی طرف
Urdu book, p. 38
By Maulana Wahiduddin Khan
وہ اخوت جو حیاتیاتی واقعہ کے طور پر پہلے سے پائی جارہی ہے، اس کو سماجی سطح پر اختیار کرلینا، یہی انسانی اتحاد اور انسانی یک جہتی کا واحد راز ہے۔ یہ اتحاد اور یک جہتی کا وہ فطری نسخہ ہے جس کا اشارہ خود ہماری پیدائشی بناوٹ میں موجود ہے۔ اس تحقیق نے ایک طرف ان تمام نظریات کو باطل ثابت کرد یا ہے جو رنگ اور نسل کے فرق کی بنا پر انسانیت کو مختلف گروہوں میں بانٹے ہوئے تھے، دوسری طرف اس نے بتا دیا ہے کہ انسانوں کے درمیان یک جہتی قائم کرنے کی فطری تدبیر کیا ہے۔ تنوع کا اصول جس دنیا میں ہم رہ رہے ہیں اس کا نظام تنوع اور رنگارنگی کے اصول پر قائم ہے۔ یہی تنوع انسانوں کے درمیان بھی مطلوب ہے۔ ہمیں انسانوں کے درمیان یہ مزاج بنانا چاہیے کہ وہ اختلاف کے باوجود متحد ہوں، وہ مختلف اور متنوع انسانوں کے ساتھ مل کر زندگی گزارنا سیکھیں۔ انسانی یکتا قائم کرنے کے لیے فرق کو مٹانا قدرت کے نظام کے خلاف ہے، اس لیے وہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔ مثال کے طور پر جانوروں کو لیجیے۔ جانور کی ایک ملین سے بھی زیادہ قسمیں دنیا میں پائی جاتی ہیں اور ہر ایک کا ایک کام ہے جو اسی کے ساتھ مخصوص ہے ۔ یہاں زمین پر رینگنے والے کیڑوں کی بھی ضرورت ہے جو گندگی اور بیکار چیزوں کو (decompose) کر کے ہماری فضا کو برابر پاک صاف کرتے رہتے ہیں یہاں بیل کی بھی ضرورت ہے جو ہمارے کھیت کو جوتے اور گھوڑے کی بھی ضرورت ہے جو ہماری سواری کے کام آئے۔ ایک طرف اگر یہاں چڑیوں کی ضرورت ہے جو چہچہائیں، تو دوسری طرف گدھے کی بھی ضرورت ہے کہ جب وہ چینچے تو آپ سوچیں کہ مجھے اس طرح چیخ کر نہیں بولنا چاہیے۔ یہی معاملہ تمام دوسری چیزوں کا ہے۔ اس دنیا میں بے حساب تنوع اور رنگارنگی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader