Urdu book · تعمیر کی طرف

ادنی سے اعلیٰ

Urdu book, p. 42

By Maulana Wahiduddin Khan

شکر کو انرجی میں تبدیل کرنے کی صلاحیت کھو دے تو زندگی اس کے لیے بے معنی ہو جائے گی۔ وہ سب کچھ ہوتے ہوئے بے کچھ ہو جائے گا۔ اسی طرح جو سماج اس مزاج سے خالی ہو جائے، یعنی اس کے افراد ادنیٰ سلوک کو اعلیٰ سلوک میں ڈھالنے کا ثبوت نہ دے سکیں، ایسا سماج ایک بیمار سماج ہے۔ ایسے سماج کو درست کرنے کی کوئی بھی تدبیر اس کے سوا نہیں کہ اس کے اندر دوبارہ یہ اعلیٰ صلاحیت پیدا کی جائے۔ آج کل ہمارے سماج میں جو بگاڑ اور ٹکراؤ پایا جاتا ہے اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ لوگوں کے درمیان تہذیبی فرق ہے۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ ہمارے سماج کے افراد نفسیاتی اعتبار ڈائبیٹک ہو گئے ہیں۔ ان کے اندر یہ صلاحیت باقی نہیں رہی ہے کہ وہ ’’شکر‘‘ کو ’’انرجی‘‘ میں تبدیل کر سکیں۔ وہ بے طاقت کو اپنے لیے طاقت بنالیں۔ سماجی زندگی میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کے ساتھ ناخوش گوار تجربات پیش آتے ہیں۔ ایک شخص کو دوسرے شخص سے کوئی شکایت پیدا ہو جاتی ہے۔ کسی کا مفاد دوسرے کے مفاد سے ٹکرایا جاتا ہے۔ ایک شخص ایسے الفاظ بولتا ہے جس کو سن کر دوسرا شخص محسوس کرتا ہے کہ وہ اس کی ذاتی یا قومی حیثیت پر چوٹ کر رہا ہے۔ اس قسم کے واقعات سماجی زندگی میں لازما پیش آتے ہیں اور پیش آتے رہیں گے۔ ہمارے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ ہم ایسے واقعات کی پیدائش کو روک دیں۔ ہمارے لیے جو چیز ممکن ہے وہ صرف یہ ہے کہ ہم ایسے واقعات سے منفی اثر نہ لیں۔ ایک تندرست آدمی اپنے اندر داخل ہونے والی شکر کو انرجی میں تبدیل کرتا ہے۔ یہی تبدیلی کا عمل نفسیاتی طور پر بھی مطلوب ہے۔ اس دنیا میں بہتر سماجی زندگی بنانے کا راز صرف یہ ہے کہ لوگوں کو شعوری اعتبار سے اس قابل بنایا جائے کہ وہ ناخوشگو وار واقعہ کو خوشگو ارتاثیر میں تبدیل کر سکیں۔ وہ غصہ کے جواب میں معافی پیش کریں اور برائی کرنے والوں کو اچھے سلوک کا تحفہ دیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page