Urdu book · تعمیر کی طرف

تعمیر کی طرف

Urdu book, p. 43

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ سماج کے افراد نفسیاتی اعتبار سے ڈائنٹک ہو گئے ہیں۔ ان کی اس نفسیاتی بیماری کا علاج کیجیے، اور پھر آپ دیکھیں گے کہ جو سماج باہمی اختلافات کا گہوارہ بنا ہوا تھا وہ متنوع قسم کے پودوں اور درختوں کا خوشنما باغ بن گیا ہے۔ تبدیلی کا اصول کائناتی پیٹرن کا ایک پہلو یہ ہے کہ یہاں کا پورا نظام تبدیلی (conversion) کے اصول پر قائم ہے۔ یہاں کسی چیز کی افادیت کا معیار یہ ہے کہ وہ کنورژن کے اصول پر پوری اترے۔ مثلاً اس دنیا میں انسان کی سانس سے اور دوسرے اسباب سے بڑی مقدار میں کاربن ڈائی آکسائڈ گیس پیدا ہوتی ہے۔ درخت اس کو اپنے اندر لے لیتے ہیں۔ درخت کے اندر جو کاربن ڈائی آکسائڈ داخل ہوتی ہے۔ اگر وہ دوبارہ اس کو کاربن ڈائی آکسائڈ ہی کی صورت میں نکالیں تو پوری فضا زہریلی ہو جائے اور انسان اور حیوانات کے لیے اس دنیا میں زندہ رہنا ممکن نہ ہو جائے۔ مگر درخت اس کاربن ڈائی آکسائڈ کو مخصوص عمل کے ذریعہ آکسیجن میں تبدیل کرتے ہیں اور اس کو آکسیجن کی صورت میں خارج کرتے ہیں۔ وہ دوسروں سے زہریلی گیس لے کر دوسروں کو مفید گیس کا تحفہ پیش کرتے ہیں۔ اسی طرح مثلاً گائے کو دیکھیے۔ گائے گویا قدرت کی انڈسٹری ہے جو گھاس کھاتی ہے اور اس کو دودھ کی صورت میں ہمیں لوٹاتی ہے۔ وہ انسان کے لیے ناقابل خوراک چیز کو قابل خوراک چیز میں کنورٹ کرنے کا قدرتی کارخانہ ہے۔ گائے اگر ایسا کرے کہ وہ گھاس کھا کر گھاس خارج کرنے لگے تو وہ اپنی قیمت اور افادیت کھو دے گی۔ کنورژن (تبدیلی) کا یہ اصول جو بقیہ دنیا میں قائم ہے، وہی انسان سے بھی مطلوب ہے بقیہ دنیا کی صحیح کارکردگی کا راز یہ ہے کہ وہ کنورژن کے اصول پر کام کر رہی ہو۔ اسی طرح بہتر زندگی اور کامیاب انسانی سماج بنانے کا راز بھی یہی ہے کہ اس کے افراد اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page