Urdu book · تعمیر کی طرف

اصلاح کی طرف

Urdu book, p. 49

By Maulana Wahiduddin Khan

بعد جواہر لال نہرو (1964-1889) نئے ہندوستان کے وزیر اعظم ہوئے اور انھوں نے ملک کے لیے صنعتی بنیاد (Industrial base) فراہم کی۔ اس سے پہلے ہندوستان کی جو حالت تھی اس کی مثال یہ ہے کہ حکومتی فیصلے کی قوت ملکی باشندوں کے ہاتھ میں نہ ہونے کی وجہ سے سڑکوں کی ترقی کا کام بہت دیر سے شروع ہو سکا ہندوستان میں ریلوے کا آغاز برٹش دور میں 1853 میں ہوا۔ اور بہت جلد سارے ملک میں ریلوے لائن کا جال بچھا دیا گیا۔ مگر سڑکوں کی ترقی 70 سال تک رکی رہی ۔ ملک میں سڑکوں کی تعمیر حکومت کی توجہ کا مرکز نہ بن سکی۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کے الفاظ میں : Little attention was paid to road development until the 1920s, mainly because the government had previously focussed its attention on railways (9/295). 1920 کے بعد کے سالوں سے پہلے روڈ کی ترقی پر بہت کم توجہ دی جاسکی۔ خاص طور پر اس وجہ سے کہ (برطانی) حکومت نے اس سے پہلے اپنی ساری توجہ ریلوے پر لگا رکھی تھی۔ برطانی حکومت ریل کی پٹریوں کو لوہے کی زنجیریں سمجھتی تھی۔ اس کا خیال تھا کہ ان زنجیروں کے ذریعہ وہ ملک پر اپنے قبضہ کو زیادہ دیر تک باقی رکھ سکے گی۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے ریلوے لائنیں بچھانے پر خصوصی توجہ دی۔ مگر سڑکیں بنانے پر وہ توجہ نہ دے سکی۔ ملک کو سیاسی غلامی کی یہ قیمت دینی پڑی کہ سڑکوں کی تعمیر کے معاملہ میں وہ پیچھے ہو گیا جو کہ قومی ترقی کے لیے موجودہ زمانہ میں نہایت اہمیت رکھتی ہیں۔ دوسری مثال صنعت کی ہے۔ ہندوستان میں اکثر معدنی ذخیرے (Mineral resources) افراط کے ساتھ موجود ہیں۔ یہاں صنعتی ایندھن (کوئلہ) بھی بڑی مقدار میں پایا جاتا ہے۔ دنیا کے لوہے (Iron-ore) کے ذخائر کا 1/7 حصہ صرف ہندوستان کی زمین کے نیچے موجود ہے۔ اس کے باوجود ملک کی آزادی سے پہلے اس کی صنعتی ترقی ممکن

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page