Urdu book · تعمیر کی طرف

اصلاح کی طرف

Urdu book, p. 50

By Maulana Wahiduddin Khan

نہ ہوسکی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس سے پہلے یہاں ایک بیرونی قوم کا قبضہ تھا۔ وہ ہندوستان کو اپنی صنعتی سامانوں کی منڈی بنائے ہوئے تھے۔ 1947 میں جب ہندوستان آزاد ہوا تو اس کے بعد یہاں باہر کا سامان درآمد کرنے پر پابندیاں لگائی گئیں۔ اور ملکی صنعت کو ترقی کے مواقع دیئے گئے ۔ چنانچہ ہندوستان تیزی سے صنعتی میدان میں آگے بڑھا۔ یہاں تک کہ اب وہ صنعتی طور پر ترقی یافتہ ملکوں میں شمار کیا جانے لگا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ سیاسی اور صنعتی اعتبار سے ملک اب ترقی کے اگلے اسٹیج پر پہنچ رہا ہے ۔ ہندوستان کی سیاسی بنیاد اب اتنی مضبوط ہوچکی ہے کہ وہ "تیسری دنیا" کے ملکوں کی قیادت کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ اسی طرح ہندوستان کی صنعتی بنیاد اب اتنی گہری ہو چکی ہے کہ 1985 سے اس نے الیکٹرانک دور میں داخلہ کا آغاز کر دیا ہے۔ پہلے ہندوستان کو یہ ڈر رہتا تھا کہ امپورٹ کا راستہ کھولنے سے اس کی اندرونی صنعت برباد ہو جائے گی ۔ اور اب ملک کو اس حد تک اعتماد پیدا ہو چکا ہے کہ وہ امپورٹ کی پابندیاں کم کرنے کے بعد بھی یہ اعتماد رکھتا ہے کہ وہ بیرونی صنعتوں کا مقابلہ کر کے آگے بڑھ سکتا ہے۔ یہ باتیں بلاشبہ اچھی ہیں ۔ یہ ہر ہندوستانی کے لیے خوشی کا باعث ہیں کہ پچھلے 40 سال میں ملک نے سیاسی اور صنعتی بنیاد حاصل کرلی۔ مگر ہندوستان کی حقیقی ترقی کے لیے ابھی ایک اور مشکل تر مرحلہ باقی ہے ۔ اور وہ یہ کہ ملک کو اخلاقی بنیاد ( moral base) عطا کی جائے ۔ اخلاقی بنیاد فراہم کرنے کا مسئلہ فیصلہ کن حد تک اہم ہے۔ اگر یہ بنیاد فراہم نہ ہو تو بقیہ میدانوں کی ترقیاں بھی غیر مؤثر ہو کر رہ جائیں گی۔ یہاں ہم سابق وزیراعظم ہند پنڈت جواہر لال نہرو کا ایک اقتباس نقل کریں گے ۔ انھوں نے اپنے سوانح نگار مائیکل بریچر کو انٹرویو دیتے ہوئے 1956 میں کہا تھا: What constitutes a good society? I believe in certain standards. Call them moral standards. They are important

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page