اصلاح کی طرف
Urdu book, p. 54
By Maulana Wahiduddin Khan
آدمی کو اچھی طرح معلوم ہے کہ دوسروں کو اس کے ساتھ کیا کرنا چاہیے ، بس اسی کو وہ خود بھی دوسروں کے ساتھ کرنے لگے۔ جس آدمی کے اندر یہ صفت آجائے وہ با اخلاق آدمی ہو گیا۔ اخلاق ، اپنی حقیقت کے اعتبار سے ، اس کے سوا کسی اور چیز کا نام نہیں کہ جو کچھ ہم اپنے لیے پسند کرتے ہیں وہی ہم دوسروں کے لیے بھی پسند کرنے لگیں۔ اخلاق کے اس قدم معلوم اور معروف ہونے کے باوجود اخلاق ہی وہ چیز ہے جو لوگوں میں سب سے کم پائی جاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اخلاق کی ایک قیمت ہے اور اسی قیمت نے اس کے خریداروں کو اس سے دور کر رکھا ہے۔ لوگ جو کچھ صحیح سمجھتے ہیں اس کو کرتے نہیں ، کیوں کہ وہ اس کی قیمت دینا نہیں چاہتے۔ اخلاق کی قیمت کیا ہے ، ایک لفظ میں اخلاق کی قیمت ہے ـــ قیمت نہ ملنے کے باوجود اخلاق برتنا۔ عام آدمی ہمیشہ مفاد کے تحت عمل کرتا ہے۔ یعنی جہاں ایک عمل کر کے کچھ بدلہ ملے وہاں وہ عمل کرے گا اور جہاں عمل کا بدلہ ملنے کی امید نہ ہو وہاں وہ عمل بھی نہیں کرے گا۔ جس سماج میں اس مزاج کے لوگ ہوں وہاں کبھی صحیح معنوں میں اخلاقی ماحول نہیں بن سکتا۔ کیوں کہ زندگی میں ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ آدمی ایک اچھا سلوک کرے تو فوراً اس کو اپنے اچھے سلوک کا بدلہ مل جائے۔ دوسروں کے ساتھ اچھا سلوک صرف وہ لوگ کر سکتے ہیں جو بدلہ کی امید کے بغیر اچھا سلوک کرنا جانیں۔ جو لوگ اپنے عمل کا فوراً بدلہ پانا چاہیں وہ کبھی اعلیٰ کردار کے مالک نہیں بنتے ، اور اسی لیے وہ اس دنیا میں کوئی بڑا کام بھی نہیں کر سکتے۔ اخلاقی بنیاد فراہم کرنا دوسرے لفظوں میں اس کا نام ہے کہ لوگوں کو کوئی اتنی بڑی چیز دی جا سکے جس کے بعد ہر چیز ان کی نظر میں چھوٹی ہو جائے ۔ دوسروں کے ساتھ اخلاق برتنے کے لیے آدمی کو کچھ کھونا پڑتا ہے۔ آدمی کو اگر کوئی اتنی بڑی چیز مل جائے کہ اس کے مقابلہ میں ہر دوسری چیز چھوٹی نظر آئے تو اس کے لیے اخلاق پر قائم رہنا آسان ہو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader