Urdu book · تعمیر کی طرف

اصلاح کی طرف

Urdu book, p. 53

By Maulana Wahiduddin Khan

اخلاق کا خلاصہ انسانیت کا احترام ہے۔ دوسرے افراد یا گرد و پیش کے انسانی معاشرہ کی نسبت سے آدمی کے اوپر جو ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ، خواہ باضابطہ طور پر ان کے بارہ میں قول و قرار ہوا ہو، یا باضابطہ قول و قرار نہ ہوا ہو، ہر حال میں ان کو ادا کرنا ضروری ہے اور اسی ادائیگی کا نام اخلاق ہے۔ اس تعریف کے مطابق اخلاق ہر آدمی کی جانی پہچانی اور معلوم چیز ہے۔ ہر آدمی فطری طور پر حق اور ناحق کی پہچان رکھتا ہے۔ ہر آدمی جانتا ہے کہ دوسروں سے معاملہ کرتے ہوئے اس کو کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں کرنا چاہیے۔ اخلاق یہ ہے کہ آدمی اپنی اسی جانی ہوئی چیز پر عمل کرنے لگے۔ اسی بنا پر اخلاقیات کے لیے قرآن و حدیث میں معروف اور منکر کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ اسلام کی نظر میں پسندیدہ اخلاق ”معروف“ ہے اور ناپسندیدہ اخلاق ”منکر“ ہیں۔ معروف کے معنی ہیں جانی پہچانی چیز، اور منکر کے معنی ہیں اجنبی چیز۔ اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں کو اچھا قرار دیا ہے وہ وہی چیزیں ہیں جن کے اچھا ہونے کا شعور خود انسانی فطرت میں پیوست ہے۔ اسی طرح جن چیزوں کو الہی شریعت میں برا قرار دیا گیا ہے وہ وہی چیزیں ہیں جن کو انسانی فطرت پیشگی طور پر برا سمجھتی ہے۔ تاہم معروف و منکر کے یہ احساسات انسانی فطرت میں وجدانی طور پر پیوست ہیں نہ کہ اس طرح لکھے ہوئے ہیں جس طرح کاغذ کے صفحہ پر کوئی چیز لکھی جاتی ہے۔ الہی شریعت یہاں یہ کرتی ہے کہ وہ معروف و منکر کے احساسات کو الفاظ کی شکل دے دیتی ہے۔ وہ محسوس چیز کو ملفوظ چیز بنا دیتی ہے۔ حدیث میں اخلاق کی نہایت سادہ پہچان بتائی گئی ہے۔ وہ یہ کہ تم دوسروں کے ساتھ وہی سلوک کرو جو سلوک تم خود اپنے لیے پسند کرتے ہو (صحیح البخاری، حدیث نمبر 13)۔ ہر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page