Urdu book · تعمیر کی طرف

اصلاح کی طرف

Urdu book, p. 57

By Maulana Wahiduddin Khan

ڈال کر ان کی گرفت سے نہیں بچ سکتا۔ روزمرہ کی زندگی میں جو بدعنوانیاں (corruption) ہمارے ملک میں نظر آتی ہیں وہ مغربی ملکوں میں عام طور پر دکھائی نہیں دیتیں۔ تاہم یہ اخلاق قومی مفاد کی بنیاد پر بنا ہے اس لیے اس کی بھی حد آجاتی ہے۔ مثلاً مغربی ملکوں میں ایسا نہیں ہوتا کہ دودھ میں پانی ملایا جائے۔ نقلی سامان تیار کرکے بازار بھر دیئے جائیں۔ ایک تاجر نمونہ کے طور پر اچھا مال دکھائے اور اس کے بعد خراب مال پیک کرکے آپ کو بھیج دے۔ دفتروں میں اپنا جائز کام بھی رشوت کے بغیر نہ ہوسکے۔ مگر مغربی انسان کے اس اخلاق کی اس وقت حد آجاتی ہے جب کہ اس کا اخلاق قومی مفاد سے ٹکرانے لگے۔ مثلاً موجودہ زمانہ میں بڑے بڑے ترقی یافتہ ملکوں کے یہاں سب سے زیادہ جس صنعت کو ترقی ہوئی ہے وہ جنگی صنعت ہے۔ ان ملکوں کے پاس تیار شدہ جنگی سامان کے انبار جمع ہوگئے ہیں۔ وہ خوب جانتے ہیں کہ یہ تمام چیزیں انتہائی مہلک ہیں۔ وہ خدا کی دنیا کو جہنم بنا دینے والی ہیں۔ مگر ان کا قومی مفاد چاہتا ہے کہ وہ فروخت ہوں تا کہ ان پر جو بے پناہ لاگت آئی ہے وہ نفع کے ساتھ انھیں واپس ملے۔ اگر حالات بالکل معمول پر ہوں۔ ہر طرف امن و سکون ہو تو کوئی بھی ان کے مہلک ہتھیاروں کو نہیں خریدے گا۔ اس لیے یہ ترقی یافتہ قومیں یہ کرتی ہیں کہ عالمی سطح پر تناؤ کے حالات پیدا کرتی ہیں۔ ان کے رہنما اپنے تخریبی منصوبوں کے ذریعہ ایک ملک کو دوسرے ملک سے لڑاتے ہیں ۔ وہ ہر علاقہ میں زبردستی ایک ’’اسرائیل‘‘ کھڑا کرتے ہیں تاکہ قوموں کے اندر خطرہ کی نفسیات پیدا ہو اور وہ زیادہ سے زیادہ ان کے ہتھیار خریدیں۔ اپنے معاشرہ میں ذاتی سلوک کے معاملہ میں ان قوموں کے افراد با اخلاق ہیں۔ مگر جب ان کی قوم کے مفاد کا معاملہ آجاۓ تو وہاں ان کی حد آجاتی ہے۔ قومی مفاد کے معاملہ میں وہ ان سب چیزوں کو جائز کرلیتے ہیں جن کو وہ ذاتی مفاد کے معاملہ میں ناجائز کیے ہوۓ تھے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page