Urdu book · تعمیر کی طرف

تعمیر کی طرف

Urdu book, p. 58

By Maulana Wahiduddin Khan

ہر آدمی کی زندگی میں کوئی ایسی چیز ہوتی ہے جو اس کے لیے سب سے بڑی (supreme) حیثیت رکھتی ہے۔ عام آدمی کے لیے اس کا ذاتی مفاد اس کے لیے سپریم ہوتا ہے۔ کچھ ترقی یافتہ معاشروں میں ان کا قومی مفاد ان کے لیے سپریم ہے۔ مگر ان دونوں میں سے کوئی بھی چیز اخلاق کی صحیح بنیاد نہیں۔ کیوں کہ ذاتی مفاد کی بنیاد پر بننے والے اخلاق کی اس وقت حد آجائے گی جب کہ اس کا مفاد دوسرے کے مفاد سے ٹکرا رہا ہو۔ اسی طرح قومی مفاد کی بنیاد پر بننے والے اخلاق کی اس وقت حد آجاتی ہے جب کہ اپنی قوم کا مفاد اور دوسری قوم کا مفاد یکساں نہ رہے۔ اپنا قومی مفاد اگر اس میں ہو کہ لوگ جنگی سامان خرید کر قتل وغارت کا میدان گرم کریں تو وہ جنگی سامان بنائے گا اور اس کو دوسری قوموں کے ہاتھ فروخت کرے گا۔ خواہ اس کی قومی تجارت کا فروغ دوسری قوموں کی ہلاکت کی قیمت پر کیوں نہ ہو رہا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ اخلاق کی ایک ہی صحیح بنیاد ہے اور وہ خدائے برتر کا عقیدہ ہے جو تمام کائنات کا خالق و مالک ہے۔ خدا تمام دوسری چیزوں سے بڑا ہے۔ وہ سب سے زیادہ سپریم ہے۔ جو شخص خدا کو پالے اس نے سب سے بڑی چیز کو پالیا۔ ایسے آدمی کی کبھی حد نہیں آئے گی۔ اس کی نظر میں ہر دوسری چیز چھوٹی ہوگی۔ خدا کو پا کر وہ آخری سب سے بڑی چیز کو پالے گا۔ اس کے بعد ہر دوسری چیز کی قربانی اس کے لیے آسان ہو جائے گی۔ وہ ہر دوسری چیز کا کھونا برداشت کرلے گا۔ کیوں کہ اس کو یقین ہوگا کہ کھونے کے بعد بھی اس کے پاس ایک چیز موجود ہے جو تمام چیزوں سے زیادہ بڑی ہے اور وہ اس کا خدا ہے۔ ایک ملحد کا اعتراف برٹرینڈ رسل خدا کو نہیں مانتا۔ وہ انسانی معاملات کی تنظیم کے لیے انسانی قانون کو کافی سمجھتا ہے۔ مگر اسے یقین نہیں کہ ایسا ممکن ہے۔ وہ اس وقت اپنے کو لاجواب محسوس کرتا ہے کہ جب کہ ایک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page