ایک ملحد کا اعتراف
Urdu book, p. 59
By Maulana Wahiduddin Khan
خدا پرست آدمی اس سے کہے کہ میں انسانی حاکم کی پکڑ سے بچ سکتا ہوں ، مگر میرے لیے یہ ممکن نہیں کہ میں اپنے آپ کو خدائی حاکم کی سزا سے بچالوں : برٹرینڈ رسل نے جان لاک (1704-1632) کے خیالات پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ مذہبی عقیدہ کے مطابق خدا نے کچھ خاص اخلاقی قوانین مقرر کیے ہیں۔ جو لوگ ان قوانین کی پیروی کریں وہ جنت میں جائیں گے اور جو لوگ ان قوانین کو توڑیں وہ اپنے عقیدہ کے مطابق اپنے لیے یہ خطرہ مول لیتے ہیں کہ انھیں جہنم میں ڈال دیا جائے۔ محتاط قسم کی خوشی کے متلاشی لوگ اس بنا پر نیک اور با اخلاق بن جائیں گے۔ گناہ آدمی کو جہنم میں لے جائے گا، اس عقیدہ میں زوال آنے کا یہ نتیجہ ہوا ہے کہ یہ بات مزید مشکل ہوگئی ہے کہ نیک زندگی اختیار کرنے کے حق میں ایسی دلیل لائی جائے جس کا آدمی خود لحاظ کر سکے۔ بنتھم جو کہ ایک آزاد خیال مفکر تھا، اس نے انسانی قانون ساز کو وہ جگہ دی جو مذہبی عقیدہ کے مطابق خدا کی جگہ تھی۔ اس کے نزدیک یہ قوانین اور سماجی حالات کا کام تھا کہ وہ فرد اور عوام کے مفادات میں ہم آہنگی پیدا کریں، تا کہ ہر شخص اپنی ذاتی خوشی تلاش کرتے ہوئے اجتماعی خوشی کو برقرار رکھنے پر مجبور ہو۔ مگر یہ اس سے کم اطمینان بخش ہے جتنا کہ جنت اور دوزخ کے عقیدہ کے تحت ذاتی مفادات اور عوامی مفادات میں ہم آہنگی کا پیدا ہونا، اس لیے بھی کہ انسانی قانون ساز ہمیشہ دانش مند یا نیک نہیں ہوتا، اور اس لیے بھی کہ انسانی حکومتیں ہمہ ہیں اور ہمہ داں نہیں ہیں :

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader