نمونہ انسانیت
Urdu book, p. 61
By Maulana Wahiduddin Khan
نمونۂ انسانیت سوامی ویویکا نند (1902-1865) نے ایک خط کے جواب میں لکھا تھا کہ میرا تجربہ ہے کہ اگر کبھی کوئی مذہب انسانی برابری کی منزل تک قابلِ لحاظ حد تک پہنچا ہے تو وہ اسلام اور صرف اسلام ہے ۔ اس لیے میرا یہ قطعی خیال ہے کہ عملی اسلام کی مدد کے بغیر، ویدا نَتزم کے نظریات ، خواہ وہ کتنے ہی اچھے اور شاندار ہوں، عام انسان کے لیے بالکل بے فائدہ ہیں ۔ ہمارے مادر وطن کے لیے دو عظیم نظاموں کا ملاپ ، ہندو انزم اور اسلام ۔ ویدانت دماغ اور اسلام جسم ــ واحد امید ہے : میں اپنے ذہن کی آنکھ سے دیکھ رہا ہوں کہ مستقبل کا معیاری ہندوستان ، انتشار اور افتراق سے نکل کر ویدانت دماغ اور اسلام جسم کے ذریعہ کامیاب اور فتح مند ہو رہا ہے : My experience is that if ever any religion approached to this equality in an appreciable manner, it is Islam and Islam alone. Therefore I am firmly persuaded that wighout the help of practical Islam, theories of Vedantism, however fine and wonderful they may be, are entirely valueless to the vast mass of mankind. For our own motherland, a junction of the two great systems, Hindusim and Islam-Vadanta brain and Islam body-is the only hope. I see in my mind's eye the future perfect India rising out of this chaos and strife, glorious and invincible, with Vedanta brain and Islam body. (Letter of Swami Vivekananda (1986), pp-379-80). مہاتما گاندھی (1947-1869) کانگریسی لیڈروں کو یہ مشورہ دیا کرتے تھے کہ وہ خلیفہ ابوبکر اور خلیفہ عمر کی پیروی کریں : We have to follow the example of Abu Bakr and Umar.

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader