Urdu book · تعمیر کی طرف

تعمیر کی طرف

Urdu book, p. 62

By Maulana Wahiduddin Khan

گاندھی جی نے ایک بار اپنے اخبار (ہریجن) میں لکھا تھا کہ سادگی کا نگریسیوں ہی کا اجارہ نہیں ۔ میں رام چندر اور کرشن کا حوالہ نہیں دیتا۔ کیوں کہ وہ تاریخی شخصیتیں نہ تھیں۔ میں مجبور ہوں کہ ابو بکر اور عمر کے نام کا حوالہ دوں ۔ اگر چہ وہ بہت بڑی سلطنت کے حاکم تھے۔ مگر انھوں نے فقیروں جیسی زندگی گزاری۔ Simplicity is not the monopoly of Congressites. I am not going to mention the names of Rama and Krishna because they were not historic personalities. I am compelled to mention the names of Abu Bakr and Umar. Though they were masters of vast empire, yet they lived the life of paupers, (Harijan, July 27, 1937). یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلامی شخصیتوں نے اسلام کی صورت میں جو تاریخ بنائی ہے، وہ ساری انسانیت کے لیے نمونہ کی تاریخ ہے۔ اسلام نے اُن اوصاف کی اعلیٰ ترین مثالیں قائم کی ہیں۔ جن کو انسانی اوصاف کہا جاتا ہے۔ فرضی قصے کہانیوں کی صورت میں کوئی بھی شخص ایک کتاب لکھ سکتا ہے۔ مگر انسانیت کے نمونہ کے لیے حقیقی کردار کا حوالہ دینا ہو تو اسلامی شخصیتوں کے سوا کسی اور کا حوالہ نہیں دیا جا سکتا۔ اس اعتبار سے یہ اسلامی شخصیتیں ساری انسانیت کا مشترک اخلاقی ورثہ ہیں۔ وہ تمام انسانوں کے لیے بہترین اخلاقی نمونہ ہیں یہاں ہم اس بات کی وضاحت کے لیے مختلف پہلوؤں سے چند تاریخی مثالیں نقل کریں گے۔ اعتماد و توکل پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں پیدا ہوئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ابتدائی تبلیغ کے تقریباً بارہ سال اسی شہر میں گزارے ۔ اس زمانہ میں مکہ پر مشرکوں کا غلبہ تھا۔ انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت تکلیفیں پہنچائیں ۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مار ڈالنے کے درپے ہو گئے۔ جب یہ نوبت آگئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ چھوڑ کر مدینہ چلے گئے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page