Urdu book · تعمیر کی طرف

تعمیر کی طرف

Urdu book, p. 64

By Maulana Wahiduddin Khan

اس وقت حضرت عمر بن الخطاب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے۔ وہ غصہ ہو گئے اور بگڑ کر کہا کہ اے خدا کے دشمن تو یہ کیا کہہ رہا ہے۔ کیا تو اس سے نہیں ڈرتا کہ تیری گردن مار دی جائے۔ مگر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ذرا بھی غصہ نہیں ہوئے۔ حتیٰ کہ یہ بھی نہیں کہا کہ تم وقت سے پہلے کیوں قرض کا تقاضا کر رہے ہو۔ اس کے بجائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر کو تنبیہ کی اور کہا کہ اے عمر! میں اور یہ ایک اور چیز کے زیادہ محتاج تھے، وہ یہ کہ تم مجھ کو حق کی بہتر ادائیگی کے لیے کہتے اور اس کو حق کے بہتر مطالبہ کے لیے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ زید بن سعنہ کو مقررہ مقدار میں کھجوریں ادا کر دی جائیں۔ نیز عمر کی سخت کلامی کے بدلے میں 20 صاع کھجور اور زیادہ دی جائے۔ زید بن سعنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس سلوک کو دیکھ کر اسلام میں داخل ہو گئے (صحیح ابن حبان، حدیث نمبر 793)۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت عرب کے حکمراں تھے۔ وہ زید بن سعنہ کے خلاف کوئی بھی سخت کارروائی کرنے کا پورا اختیار رکھتے تھے۔ اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن سعنہ کی گستاخی اور بدسلوکی کو یک طرفہ طور پر برداشت کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اشتعال انگیزی کے باوجود مشتعل نہیں ہوئے۔ یہ ایک انتہائی کامل اور تاریخی مثال ہے جو بتاتی ہے کہ اعلیٰ انسانی سلوک کیا ہے۔ اور کس طرح ایسا ہو سکتا ہے کہ اجتماعی زندگی میں ایک شخص صبر و برداشت کے اصول پر قائم رہ کر زندگی گزار سکے۔ اعزاز کے بجائے ذمہ داری ابوبکر بن ابی قحافہ اسلام کے پہلے خلیفہ ہیں۔ ان کا زمانہ خلافت 632ء سے 634ء تک ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جب ان کو خلیفہ منتخب کیا گیا تو اس کو انھوں نے عہدہ نہیں سمجھا، بلکہ اس کو ایک ذمہ داری سمجھا۔ وہ خوش ہونے کے بجائے فکر مند ہو گئے۔ بیعت کے بعد جب وہ لوگوں کو خطاب کرنے کے لیے ممبر پر کھڑے ہوئے تو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page