تعمیر کی طرف
Urdu book, p. 63
By Maulana Wahiduddin Khan
اس وقت حالات اتنے سخت تھے کہ مکہ سے نکل کر سیدھے مدینہ جانا خطرے سے خالی نہ تھا۔ اس لیے آپ ﷺ جب مکہ چھوڑ کر نکلے تو ابتدا ء تین دن تک غارِ ثور میں مقیم رہے جو ایک دشوار گزار پہاڑ کے اوپر ایک تنگ مقام پر واقع تھا۔ تاہم آپ ﷺ کے دشمن آپ کو تلاش کرتے ہوئے وہاں بھی پہنچ گئے۔ آپ ﷺ اپنے رفیق حضرت ابو بکر صدیق کے ساتھ غار میں تھے اور آپ ﷺ کے دشمن تلواریں لیے ہوئے غار سے اتنے قریب کھڑے ہوئے تھے کہ آپ ﷺ اُن کے قدموں کو دیکھ سکتے تھے۔ تمام ظاہری قرائن کے مطابق ہلاکت آپ ﷺ کے بالکل قریب پہنچ چکی تھی۔ حضرت ابو بکر صدیق کو یہ صورتِ حال دیکھ کر سخت تشویش ہوئی۔ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ وہ تو یہاں بھی آگئے۔ آپ ﷺ نے نہایت سکون کے ساتھ جواب دیا: اے ابو بکر تمہارا ان دو کے بارے میں کیا گمان ہے جن کا تیسرا اللہ ہو (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3653)۔ یہ فقرہ بلاشبہ توکل و اعتماد کا انتہائی کامل نمونہ ہے۔ اس واقعہ میں انسان توکل کے اس آخری مقام پر نظر آتا ہے جس کے آگے اس اعلیٰ انسانی صفت کا کوئی درجہ نہیں۔ ناخوشگوار یوں پر صبر پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک واقعہ ہے۔ ایک قحط زدہ علاقہ کی مدد کے لیے آپ ﷺ نے ایک یہودی تاجر سے کچھ دینار قرض لیے۔ اس یہودی کا نام زید بن سعنہ تھا۔ زید بن سعنہ سے یہ طے ہوا کہ آپ فلاں مقررہ مدت پر 80 مثقال کھجوریں ادا کریں گے۔ کھجوروں کی ادائیگی کے وقت میں ابھی دو تین دن باقی تھے۔ کہ زید بن سعنہ اچانک آئے۔ اور ترش روئی کے ساتھ اپنے قرض کی ادائیگی کا مطالبہ کیا۔ اس وقت آپ ﷺ کے کندھے پر ایک چادر پڑی ہوئی تھی۔ زید بن سعنہ نے چادر کو پکڑ کر زور سے کھینچا اور کہا کہ اے محمد میرا قرض کیوں نہیں ادا کرتے خدا کی قسم، میں اولادِ مطلب کو جانتا ہوں ۔ وہ سب کے سب ناد ہند ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader