Urdu book · تعمیر کی طرف

تعمیر کی طرف

Urdu book, p. 66

By Maulana Wahiduddin Khan

وصیت کی کہ یہ زمین بیچ دی جائے اور اس کی قیمت سے وہ سب کچھ بیت المال میں واپس کر دیا جائے جو میں نے خلیفہ کی حیثیت سے لیا ہے۔ حکومتی عہدہ کو اعزاز سمجھنے کے بجائے ذمہ داری سمجھنے کی یہی مثال دوسرے خلفاء نے بھی قائم کی ۔ یہ مثال تمام حکمرانوں کو بتاتی ہے کہ وہ کس طرح حکومت کو عزت و شہرت کی چیز نہ سمجھیں، بلکہ ذمہ داریوں کو ادا کرنے کا ایک نازک منصب سمجھیں۔ یہی واحد چیز ہے جو کسی حکومت کو اس کے ماتحت عوام کے لیے خیر اور بھلائی کا ذریعہ بناتی ہے۔ معبود کی یکتائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات 63 سال کی عمر میں مدینہ میں ہوئی۔ اس وقت لوگوں کے اوپر عجیب دیوانگی کی کیفیت طاری ہوگئی۔ بہت سے لوگوں کو یہ یقین ہی نہ آتا تھا کہ آپ کا انتقال ہو سکتا ہے یا انتقال ہو گیا ہے۔ حضرت عمر فاروق اس معاملہ میں سب سے آگے تھے۔ وہ مدینہ کی مسجد نبوی میں تلوار لے کر کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے کہ جو شخص کہے گا کہ رسول اللہ کی وفات ہو گئی ہے میں اس تلوار سے اس کی گردن مار دوں گا۔ مسجد نبوی میں زبردست خلفشار جاری تھا۔ لوگ سخت مبہوت نظر آرہے تھے۔ اتنے میں حضرت ابو بکر صدیق وہاں آئے۔ انھوں نے صورت حال کا جائزہ لیا اور اس کے بعد مسجد کے ایک طرف تقریر کرنے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ اپنی تقریر میں انھوں نے یہ تاریخی جملہ کہا: مَنْ كَانَ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ، وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ فَإِنَّ اللَّهَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ ( صحیح البخاری ، حدیث نمبر 1242)۔ یعنی ، جو شخص محمد کی عبادت کرتا تھا تو محمد کا انتقال ہو گیا اور جو شخص اللہ کی عبادت کرتا تھا تو اللہ زندہ ہے۔ اس پر کبھی موت آنے والی نہیں) اس واقعہ میں انسان معرفت الہی کے آخری

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page