Urdu book · تعمیر کی طرف

تعمیر کی طرف

Urdu book, p. 67

By Maulana Wahiduddin Khan

درجہ پر نظر آتا ہے۔ انسان انسان ہے اور خدا خدا ہے۔ اس حقیقت کو جاننا ہی اصل علم ہے۔ اور یہ واقعہ اس اصل علم کی آخری شاندار مثال ہے۔ حق کے آگے ڈھ پڑنا اوپر جو واقعہ نقل کیا گیا اس موقع پر حضرت عمر فاروق کا کردار ابتداً بے حد انتہا پسندانہ تھا۔ انھوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ پیغمبرِ اسلام کا جسم بولتے بولتے خاموش ہو گیا۔ مگر انھیں یقین نہیں آیا کہ یہ آپ کی وفات کا واقعہ ہے۔ انھوں نے سمجھا کہ یہ ایک قسم کی روحانی معراج کا واقعہ ہے آپ اپنے رب کے پاس گئے ہیں اور جلد ہی دوبارہ زمین پر واپس آئیں گے۔ وہ اس معاملہ میں کسی کی بات سننے کے لیے تیار نہ تھے حتیٰ کہ حضرت ابوبکر صدیق کی بھی نہیں۔ حضرت ابوبکر صدیق نے مسجد نبوی میں داخل ہو کر ان کو چپ ہونے کے لیے کہا۔ مگر وہ چپ ہونے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ ان کا ہاتھ تلوار کے دستہ پر تھا اور ان کی زبان بے تکان بولے چلی جا رہی تھی۔ یہ لمحہ تھا جب کہ حضرت ابو بکر صدیق مسجد نبوی میں تقریر کے لیے کھڑے ہوئے۔ انھوں نے حضرت عمر فاروق کی آواز پر اپنی آواز کو تیز کرتے ہوئے اپنی تقریر شروع کر دی۔ یہاں تک کہ حضرت ابوبکر صدیق تقریر کرتے ہوئے اس آیت تک پہنچے: وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ ط اَفَاِنْ مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انَقَلَبْتُمْ عَلَى اَعْقَابِكُمْ ط وَمَنْ يَّنْقَلِبُ عَلَى عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا ط وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّكِرِينَ (3:144)۔ یعنی، محمد تو صرف ایک رسول ہیں۔ ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے ہیں۔ اگر وہ مر جائیں یا قتل کر دیے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page