تربیتِ اولاد
Urdu book, p. 10
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ زندگی کی سادہ سی حقیقت ہے۔ ہر آدمی جانتا ہے کہ زیادہ اہم چیزوں میں اپنا بھر پور حصہ ادا کرنے کے لیے اس کو کم اہم چیزوں میں ’’صبر‘‘ کا اصول اختیار کرنا پڑتا ہے۔ کچھ چیزوں میں اسے ’’کم‘‘ پر راضی ہونا پڑتا ہے تا کہ بعض دوسری چیزوں میں وہ ’’زیادہ‘‘ کا مالک بن سکے۔ اس اصول کا تعلق ہر ایک سے ہے، خواہ وہ غریب یا امیر ۔ غریب کو اس اصول پر چلنے کے لیے اگر اپنی ضروریات میں کمی کرنی پڑتی ہے تو امیر سے اس کا یہ تقاضا ہوتا ہے کہ وہ اپنی عیش اور تفریح کی چیزوں میں کمی کر دے۔ اہم کی خاطر غیر اہم کی قربانی ہر ایک کو دینی ہے۔ اس میں ایک شخص یا دوسرے شخص کے درمیان کوئی تفریق نہیں۔ مگر اس اصول کو لوگ صرف اپنے گھر اور اپنے بچوں کے بارے میں جانتے ہیں۔ خدا کے دین کے بارے میں وہ اس اہم اصول کو بالکل بھولے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس معاملہ میں ہر آدمی کا وہی حال ہو رہا ہے جو بائبل میں ان لفظوں میں بیان کیا گیا ہے — خدا کا گھر ویران ہے، کیونکہ تم میں سے ہر ایک اپنے گھر کو دوڑ ا چلا جاتا ہے (حجی، 1:10) لوگ اپنے گھر کے امور کو کم اہم اور زیادہ اہم کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ جو کم اہم ہے اس کو چھوڑ کر جو زیادہ اہم ہے اس کو اختیار کر لیتے ہیں۔ مگر دین وملت کے معاملہ میں ان کے یہاں اہم اور غیر اہم کی کوئی تقسیم نہیں۔ یہاں وہ بس اپنے ذوق پر چلنا چاہتے ہیں، خواہ اس کا مطلب یہی کیوں نہ ہو کہ آدمی اہم کو چھوڑ کر غیر اہم دائرہ میں دوڑ نا شروع کر دے۔ ایک اچھی مثال ایک بار دہلی کے ایک کالج کے استاد نے بتایا کہ دہلی میں طلبا کا ایک تقریری مقابلہ ہوا۔ اس میں مختلف کالجوں کے منتخب طلبا اور طالبات نے شرکت کی۔ ہر طالب علم کو انگریزی زبان میں تقریر کرنا تھا۔ ان تقریروں میں نج کو جو بنیادی چیز دیکھنا تھا، وہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader