Urdu book · تربیتِ اولاد

تربیتِ اولاد

Urdu book, p. 9

By Maulana Wahiduddin Khan

کرے، وہ تصادم کے بجائے بچنے کی تدبیر کرے۔ کون صحیح اور کون غلط‘ کی بحث میں پڑنے کے بجائے وہ مسئلہ کے حل کے پہلو پر دھیان دے۔ اور اگر اس کو نزاکت کا احساس نہ ہو تو وہ اپنی عام عادت کے مطابق ”بچہ‘ کو پول پر دیکھ کر بگڑ اٹھے گا خواہ اس کا یہی انجام کیوں نہ ہو کہ لڑکا 30 فٹ کی بلندی سے سڑک پر جا گرے اور اس کی ہڈی پسلی چور ہو جائے۔ ساری تاریخ کا یہ تجربہ ہے کہ جب آدمی کسی معاملہ میں سنجیدہ ہو تو اس کا انداز اور ہوتا ہے۔ اور جب وہ سنجیدہ نہ ہو تو اس کا انداز بالکل دوسرا ہوتا ہے۔ کوئی دلیل اس شخص کے لیے دلیل ہے جو سنجیدہ ہو۔ سنجیدہ آدمی ہی کسی بات کے وزن کو محسوس کرتا ہے۔ سنجیدہ آدمی ہی کسی مسئلہ کی نزاکتوں کو اہمیت دیتا ہے۔ اس کے برعکس، جو شخص سنجیدہ نہ ہو وہ ہر دلیل کی کاٹ کے لیے کچھ نہ کچھ الفاظ بول دے گا۔ ہر قیمتی بات کو سن کر ایک غیر متعلق بحث چھیڑ دے گا۔ اور اگر اس کی بات کا جواب دے کر بات کو از سر نو واضح کیا جائے تو وہ وضاحت کے خلاف دوبارہ کوئی بحث نکال لے گا۔ اور اصل بات بدستور اس کی گرفت سے دور رہ جائے گی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ کوئی دلیل اسی کے لئے دلیل ہے جو اس کو سمجھنا چاہے ۔ جو سمجھنا نہ چاہے اس کے لیے کوئی دلیل نہیں۔ کچھ چھوڑنا پڑتا ہے دہلی میں میں اجمیری گیٹ کی سڑک سے گزر رہا تھا۔ ایک خوانچہ فروش عورت کی آواز میرے کان میں آئی: ”ایک ہزار کی ساڑی پہنوں گی تو بچے نہیں پال سکتی ہوں‘۔ اس کے ساتھ بیٹھنے والی خوانچہ فروش نے اس کی معمولی ساڑی پر اعتراض کیا تھا۔ اس کے جواب میں عورت نے کہا کہ خریدنے کے لیے میں بھی اچھی ساڑی خرید سکتی ہوں۔ مگر اس کی قیمت مجھے یہ دینی پڑے گی کہ اپنے بچوں کی پرورش اور تعلیم میں خرچ کرنے کے لیے اس کے بعد میرے پاس کچھ نہ رہے گا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page