Urdu book · تربیتِ اولاد

بچوں کی تربیت

Urdu book, p. 13

By Maulana Wahiduddin Khan

دور میں کسی کے اندر جو شخصیت بنتی ہے، وہ بے حد اہم ہے۔ یہی شخصیت بعد کی پوری عمر میں باقی رہتی ہے۔ اسی حقیقت کو ایک عربی مقولے میں اس طرح بیان کیا گیا ہے : من شب علی شيء، شاب علیہ (آدمی جس چیز پر جوان ہوتا ہے، اُسی پر وہ بوڑھا ہوتا ہے)۔ لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ تشکیلی دور (formative period) میں نام نہاد محبت کے ذریعے بچوں کو بگاڑ دیتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ آج کل کے تمام والدین اپنے بچوں کو ناٹ بچے (me not children) بنا دیتے ہیں۔ اس کے بعد وہ چاہتے ہیں کہ ان کے بچے کسی کرشمہ ساز تربیتی طریقے کے (charismatic method of training) کے ذریعے اصلاح یافتہ بن جائیں۔ میرے تجربے کے مطابق، اصل مسئلہ یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے والدین اپنے بچوں کی تربیت کے معاملے میں سنجیدہ نہیں۔ اس معاملے میں اگر کوئی باپ زیادہ سے زیادہ سوچ پاتا ہے تو وہ صرف یہ کہ وہ اپنے بیٹے کو گول ٹوپی اور اپنی بیٹی کو اسکارف پہنادے، اور پھر خوش ہو کہ اُس نے اپنی اولاد کو اسلامی تربیت سے مزین کر دیا ہے۔ تربیت اولاد کا طریقہ کیا ہوسکتا ہے، اس کو ایک واقعے سے سمجھا جاسکتا ہے۔ ستمبر 1993ء میں انگلینڈ کے سفر کے دوران میں برمنگھم میں شمشاد صاحب کے گھر پر ٹھہرا ہوا تھا۔ ایک بار میں اپنے کمرہ میں تھا تو دوسرے کمرے سے آواز آئی۔ مسز شمشاد اپنے صاحبزادے سے کہہ رہی تھیں : ’’جھوٹ بولنے سے کیا ملا، گناہ ملا نہ، لکھ گیا اوپر‘‘ برمنگھم کی ایک تقریر کے بعد ایک صاحب نے سوال کیا کہ مغربی ملکوں میں ہمارے بچے یہاں کے کلچر سے بہت تیزی سے متاثر ہو رہے ہیں۔ اس سے حفاظت کے لیے ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ میں نے مذکورہ واقعہ بتاتے ہوئے کہا کہ یہی ماحول ہر گھر میں پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر آپ بچے کے دل میں بچپن سے یہ ڈال دیں کہ تمہارا قول و فعل اوپر لکھا جا رہا ہے تو وہ ساری زندگی کے لیے اس کا چیک بن جائے گا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page