Urdu book · تربیتِ اولاد

بچوں کی تربیت

Urdu book, p. 14

By Maulana Wahiduddin Khan

اگر کوئی شخص اپنے بچوں کی تربیت کے معاملے میں سنجیدہ ہو تو اس کے لیے میں چند ملی مشورے یہاں درج کروں گا : 1۔ محبت کے نام پر لاڈ پیار (pampering) کو وہ اس طرح چھوڑ دیں جیسے وہ کسی حرام کو چھوڑتے ہیں۔ محبت کے نام پر جو لاڈ پیار کیا جاتا ہے، اُس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ وہ بچے کو زندگی کے حقائق (realities) سے بالکل بے خبر کر دیتا ہے۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بچے کے اندر حقیقت پسندانہ طرزِ فکر (realistic approach) کانشو نما نہیں ہوتا۔ مزید یہ کہ اس کے نتیجے میں بچے کے اندر ایک خود پسند شخصیت (self-centered personality) تشکیل پاتی ہے، جو کسی آدمی کے لیے کامیاب زندگی کی تعمیر میں بلاشبہ سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ 2۔ اس سلسلے میں یہ بات بہت زیادہ قابل لحاظ ہے کہ بچے کی عمر کا ابتدائی تشکیلی دور ماں باپ کے ساتھ گزرتا ہے ۔ اس دور میں بچے کے اندر جو شخصیت بنتی ہے، وہ ہمیشہ بدستور اس کے اندر باقی رہتی ہے۔ والدین کو جاننا چاہیے کہ اس ابتدائی تشکیلی دور میں اگر انھوں نے بچے کی تربیت میں غلطی کی تو بعد کے زمانے میں اس کی تلافی کبھی نہ ہو سکے گی ۔ بعد کے زمانے میں ایسے کسی شخص کی اصلاح کی صرف ایک ممکن صورت ہوتی ہے، اور وہ یہ کہ اس کو شدید نوعیت کا کوئی ہلا دینے والا تجربہ (shocking experience) پیش آئے جو اس کے لیے ایک نقطہ انقلاب (turning point) بن جائے، مگر بہت کم لوگوں کو اس قسم کا ہلا دینے والا تجربہ پیش آتا ہے، مزید یہ کہ ایسا ہلا دینے والا تجربہ اور بھی نادر(rare) ہے، جب کہ وہ آدمی کے لیے مثبت انقلاب کا سبب بن جائے۔ 3۔ اپنے تجربے کی روشنی میں ایسے والدین کو میرا مشورہ یہ ہے کہ وہ اپنی اولاد کو ہمارے یہاں کا مطبوعہ لٹریچر اہتمام کے ساتھ پڑھوائیں، صرف ایک بار نہیں، بلکہ بار بار ۔ اِسی کے ساتھ وہ کوشش کریں کہ اُن کے بچے ہمارے یہاں کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page