Urdu book · تربیتِ اولاد

تربیتِ اولاد

Urdu book, p. 18

By Maulana Wahiduddin Khan

میں غصہ اور انتقام کا موضوع بنتا، وہ صبر اور برداشت کا موضوع بن گیا۔ کچھ دنوں بعد خود پڑوسی کو شرمندگی ہوئی۔ اس نے آکر اپنی گستاخی کی معافی مانگی اور آئندہ کے لیے پہلے سے زیادہ بہتر ہو گیا۔ باپ اگر اپنے بیٹے کے اندر انتقام کی نفسیات ابھارتا تو وہ برائی کا ایجنٹ بن جاتا۔ مگر باپ نے جب اپنے بیٹے کو بھلانے اور برداشت کے راستہ پر ڈالا تو وہ ان کے لیے نیکی اور سچائی کا رہنما ہو گیا۔ قرآن کے لفظوں میں وہ متقیوں کا امام بن گیا (74:25)۔ اسی کا نام بچوں کی تربیت ہے۔ بچوں کی تربیت یہ نہیں ہے کہ ایک وقت مقرر کر کے انھیں بٹھایا جائے اور تحریر یا تقریر کی صورت میں انھیں اصلاحی باتیں سنائی جائیں۔ اصل تربیت یہ ہے کہ گھر کے اندر جب عملی طور پر وہ مواقع پیدا ہوں جہاں ایک راستہ صحیح سمت میں جاتا ہو اور دوسرا راستہ غلط سمت میں۔ ایسے مواقع پر جذبات کو برداشت کر کے اور ذاتی نقصان اٹھا کر گھر والوں کو رہنمائی دی جائے۔ ان کے ذہن کو ایک رخ سے دوسرے رخ کی طرف پھیر دیا جائے ــــــــ تربیت پیدا شدہ حالات کے درمیان رہنمائی کی جاتی ہے نہ کہ مجرد قسم کی وعظ خوانی کے ذریعہ۔ ایک مثال بچوں کی تربیت کے سلسلے میں عام طور سے یہ کیا جاتا ہے کہ ایک مقرر وقت پر جمع کر کے بچوں کو دین کے مسائل بتایا جائے۔ بچوں کی تربیت اس قسم کے وقتی وعظ سے نہیں ہوتی بلکہ تربیت کا اصل ذریعہ گھر کا ماحول ہے۔ اگر آپ کے گھر میں اخلاق اور انسانیت کا ماحول ہو۔ آپ کے گھر میں کسی کی غیبت اور شکایت نہ کی جاتی ہو، اور آپ کے گھر میں دوسروں کو عزت دینے کا ماحول ہو، خواہ وہ اپنا ہو یا غیر تو یہ ماحول آپ کے گھر کو ایک زندہ تربیت گاہ بنا دے گا۔ اس کے بعد کسی رسمی وعظ کی ضرورت نہ ہوگی۔ یہاں ایک واقعہ نقل کیا جاتا ہے، جو بتاتا ہے کہ بچوں کی تربیت کیا ہوتی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page