تربیتِ اولاد
Urdu book, p. 17
By Maulana Wahiduddin Khan
کے جھونکے سے غیر متاثرہ کر سیدھا اپنی جڑوں پر کھڑا رہتا ہے۔ اب وہ زمین پر درخت بن کر رہتا ہے، جب کہ اس سے پہلے وہ ”پودا‘ بن کر رہ رہا تھا۔ درخت اس طرح تمثیل کی زبان میں بتا رہا ہے کہ ہر آدمی پر ابتداء وہ وقت آتا ہے جب کہ اس کو ایک وقفہ تعمیر درکار ہوتا ہے۔ جب ضرورت ہوتی ہے کہ وہ اپنی جڑیں زمین میں داخل کرے ۔ وہ اپنے تنے کو مضبوط کرے۔ وہ اپنے آپ کو ایک طاقت و وجود کی حیثیت سے نشو نما دے۔ اس وقفہ کے دوران اس کو اس طرح نہیں رہنا چاہئے جس طرح کوئی شخص مضبوط اور مستحکم ہونے کے بعد رہتا ہے۔ اس ابتدائی مرحلہ میں اس کو نرمی اور موافقت (adjustment) کا مجسمہ بن جانا چاہئے۔ اگر اس نے ایسا نہیں کیا تو اس کو تعمیر کا وقفہ نہیں ملے گا، اور جو کوئی وقفہ تعمیر سے محروم ہو جائے، وہ کبھی مرحلہ تعمیر تک بھی نہیں پہنچے گا۔ ایسا شخص ہمیشہ کمزور درخت بنا رہے گا۔ تربیت کا طریقہ ایک صاحب کو ان کے پڑوسی نے نہایت سخت بات کہہ دی۔ وہ صاحب اس کو سن کر چپ چاپ اپنے گھر میں چلے آئے۔ انھوں نے کہنے والے کو کوئی جواب نہیں دیا۔ ان کے لڑکے کو جب اس کی خبر ہوئی تو وہ بہت بگڑا۔ اس نے کہا کہ اس شخص کی ہمت کیسے ہوئی کہ وہ میرے باپ کو اس طرح ذلیل کرے۔ میں اس کو سبق دوں گا تا کہ آئندہ وہ کبھی ایسی ہمت نہ کرے۔ باپ نے بیٹے کو ٹھنڈا کیا۔ باپ نے کہا کہ آخر اس نے ایک لفظ ہی تو کہا ہے ۔ اس نے مجھے کوئی پتھر تو نہیں مارا۔ پھر اس میں ہمارا کیا نقصان ہے ۔ اس نے اگر اپنی زبان خراب کی ہے تو ہم اپنی زبان کیوں خراب کریں۔ باپ نے اپنے بیٹے سے کہا کہ تم اس کو بھلا دو اور اپنے کام میں لگ جاؤ۔ بیٹا اس واقعہ کو ”یاد“ کے خانہ میں رکھنا چاہتا تھا، باپ نے اس کو ”بھول‘‘ کے خانہ میں ڈال دیا۔ جو واقعہ عام حالات

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader