شہنشاہ اکبر کی والدہ
Urdu book, p. 22
By Maulana Wahiduddin Khan
شہنشاہ اکبر کی والدہ ملا عبد النبی (وفات 991ھ) شہنشاہ اکبر کے زمانہ کے بڑے علماء میں سے ایک تھے ۔ ان کی بنوائی ہوئی ایک مسجد اب بھی نئی دہلی میں بہادر شاہ ظفر مارگ کے کنارے موجود ہے، جو مسجد عبد النبی کے نام سے مشہور ہے۔ ملا عبد النبی شہنشاہ اکبر کے استاذ تھے۔ اس بناء پر وہ اکبر کے دربار میں بلا روک ٹوک آتے جاتے تھے۔ اکبر نے ملا عبد النبی کو حکومت میں صدر الصدور کے عہدہ پر فائز کیا تھا۔ اکبر سے خصوصی تعلق کی بنا پر ملا عبد النبی کو اس زمانہ میں نہایت عزت کا مقام حاصل ہوا۔ ملا عبد القادر بدایونی کا بیان ہے کہ منصب صدارت کو کسی سلطنت میں وہ اہمیت حاصل نہیں ہوئی، جو ملا عبد النبی کے زمانہ میں اُسے حاصل تھی : در زمان ہیچ بادشاہی ایں چنیں صدرے باستقلال نگشته ... اکبر کو ملا عبد النبی سے اتنی عقیدت تھی کہ وہ اُن کے جوتے سیدھا کرتا تھا۔ ان کے مکان پر جا کر اُن سے حدیث سنتا تھا۔ ملا عبد النبی کی صحبت سے اس کی مذہبیت یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ وہ مسجد میں خود اذان دیتا تھا اور ثواب کی خاطر بعض اوقات مسجد میں جھاڑو بھی دیتا تھا۔ ایک بار ایسا ہوا کہ اس کی سالگرہ کی تقریب تھی۔ اکبر نے اپنی مشہور پالیسی کے مطابق، اس دن جو کپڑا پہنا تھا، وہ زعفرانی رنگ (گير وے رنگ ) کا کپڑا تھا۔ ملا عبد النبی نے اس کو دیکھا تو وہ اُس کو ہندوانہ رنگ سمجھ کر غصہ ہو گئے، اور بھرے دربار میں اکبر کو اپنے عصا سے مار دیا۔ اکبر کو اس پر ناگواری ہوئی ، مگر وہ خاموشی سے اٹھ کر محل کے اندر چلا گیا۔ محل کے اندر اُس کی ماں مریم مکانی موجود تھیں۔ اُس نے اپنی ماں سے کہا کہ ملا عبد النبی نے آج بھرے دربار میں مجھ کو مارا ۔ اگر وہ تنہائی میں مجھ کو نصیحت کرتے تو اس میں کوئی حرج نہ تھا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader