Urdu book · تربیتِ اولاد

تربیتِ اولاد

Urdu book, p. 23

By Maulana Wahiduddin Khan

اکبر کی ماں مریم مکانی ایک ذہین اور صاحب علم خاتون تھیں ۔ اُنھوں نے اکبر کی بات سُن کر کہا۔ بیٹے، دل پر میل نہ لانا، یہ تمھارے لئے نجات آخرت کا ذریعہ ہے۔ قیامت تک چرچا رہے گا کہ ایک بے اختیار مُلا نے بادشاہ کے ساتھ یہ حرکت کی اور سعادت مند بادشاہ نے اس پر صبر کر لیا۔ (مآثر الامراء، جلد دوم، صفحہ 560)۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اولاد کی ذہن سازی میں عورت کا کردار بے حد اہم ہے۔ گھر کا ماحول آج کل یہ حال ہے کہ سیکولر آدمی اور مذہبی آدمی کا فرق باہر کی زندگی میں تو نظر آتا ہے، لیکن گھر کی زندگی میں یہ فرق دکھائی نہیں دیتا۔ بہ ظاہر دونوں کا لباس الگ ہوتا ہے۔ سیکولر آدمی اگر گڈ مارننگ (good-morning) کہتا ہے تو مذہبی آدمی السلام علیکم کہتا ہے۔ سیکولر آدمی اگر کلب (club) جاتا ہے تو مذہبی آدمی مسجد جاتا ہے، وغیرہ۔ لیکن یہ فرق باہر کی زندگی کی حد تک ہے۔ گھر کے اندر کے ماحول کو دیکھیے تو سیکولر آدمی کے گھر اور مذہبی آدمی کے گھر کے درمیان کوئی فرق دکھائی نہیں دے گا۔ اور اگر کوئی فرق ہوگا تو وہ صرف ظاہری رسم کے اعتبار سے ہوگا، نہ کہ حقیقت کے اعتبار سے۔ قرآن میں دونوں قسم کے گھروں کی پہچان بتائی گئی ہے۔ غیر مذہبی انسان کے گھر کی پہچان کو جاننے کے لیے قرآن کی اس آیت کا مطالعہ کیجیے : اِنَّہٗ کَانَ فِيْ اَھْلِہٖ مَسْرُوْرًا (13: 84) ۔ یعنی، وہ اپنے اہل کے درمیان خوش رہتا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ غیر مذہبی انسان کی زندگی خاندان رُخی (family-oriented) زندگی ہوتی ہے۔ وہ اپنے گھر میں آکر محسوس کرتا ہے کہ میں اپنے لوگوں کے درمیان آگیا۔ وہ اپنا سارا وقت اور اپنا پیسہ اپنے اہل خاندان میں خرچ کرتا ہے اور مطمئن رہتا ہے کہ میں نے اپنے وقت اور اپنے پیسے کا صحیح استعمال کیا۔ وہ اپنے اہل خانہ کو دیکھ کر خوش ہوتا ہے۔ اس کی دل چسپیوں اور اس کی سرگرمیوں کا مرکز اس کے اہل خاندان ہوتے ہیں۔ جو لوگ اس طرح زندگی گزاریں، وہ کبھی خدا کے مطلوب بندے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page