Urdu book · تربیتِ اولاد

تربیتِ اولاد

Urdu book, p. 29

By Maulana Wahiduddin Khan

دے دیا۔ وہ اپنی اولاد کو چھوٹی چیز دینا چاہتا تھا، لیکن اس کے حالات نے اس کو اس قابل بنایا کہ وہ اپنے بچوں کو زیادہ بڑی چیز دے دے، یعنی اللہ رب العالمین کو۔ ایک وراثت یہ بھی ہے کریم بخش سیدھے سادے دین دار آدمی تھے۔ گاؤں کی معمولی آمدنی پر گزر کرلیتے۔ 65 سال کی عمر میں وہ چار بچے چھوڑ کر مرے، تو ان کے لیے انھوں نے کوئی قابلِ ذکر جائیداد نہیں چھوٹی تھی۔ ان کے انتقال کے بعد ان کے بڑے صاحب زادے رحیم بخش شہر چلے آئے تاکہ اپنے لیے کمائی کی کوئی صورت کرسکیں۔ شہر میں انھوں نے مختصر سرمایے کے ساتھ ایک کاروبار شروع کردیا۔ رحیم بخش کے والد نے ان کے لیے کوئی مادی وراثت نہیں چھوٹی تھی۔ مگر قناعت اور سادگی اور کسی سے لڑے بغیر اپنا کام کرنے کی وراثت چھوٹی تھی۔ یہ وراثت رحیم بخش کے لیے بے حد مفید ثابت ہوئی۔ ان کی سادگی اور قناعت کا نتیجہ یہ ہوا کہ معمولی آمدنی کے باوجود وہ مسلسل ترقی کرنے لگے۔ ان کا لڑائی بھڑائی سے بچنے کا مزاج ان کے لیے مزید معاون ثابت ہوا۔ ہر ایک ان سے خوش تھا۔ ہر ایک سے ان کو تعاون مل رہا تھا۔ ان کی ترقی کی رفتار اگرچہ سست تھی، مگر وہ ایک دن رکے بغیر جاری رہی۔ رحیم بخش کا کاروبار اگرچہ معمولی تھا، مگر ان کی شرافت، ان کی بے غرضی اور ان کی ایمان داری نے ان کو اپنے ماحول میں اتنی عزت دے رکھی تھی، جیسے کہ وبکوئی بڑی حیثیت کے آدمی ہوں۔ ان کے پاس سرمایہ بہت کم تھا، مگر لین دین میں صفائی اور وعدہ کا پکا ہونے کا نتیجہ یہ ہوا کہ بازار میں بڑے بڑے تھوک بیوپاری ان سے کہتے کہ ’’میاں جی، جتنا چاہے مال لے جاؤ۔ پیسہ کی پروانہ کرو۔ پیسے بعد کو آ جائیں گے۔‘‘ بعض اوقات ایسا بھی ہوا کہ کسی سے جھگڑے کی نوبت آگئی۔ مگر انھوں نے خود ہی اپنے کو چپ کر لیا۔ وہ شریر آدمی کے خلاف کوئی جوابی کارروائی نہ کرتے بلکہ خاموشی سے اپنے کاروبار میں لگ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page