ایک وراثت یہ بھی ہے
Urdu book, p. 30
By Maulana Wahiduddin Khan
جاتے اور اس کے حق میں دعا کرتے رہتے۔ جب ان کے دل میں شیطان کوئی بد معاملگی کا جذبہ ڈالتا تو ان کے والد کا معصوم چہرہ ان کے سامنے آ جاتا۔ ان کو ایسا محسوس ہوتا کہ اگر میں نے کوئی غلط معاملہ کیا یا کسی سے جھگڑا فساد کیا تو میرے باپ کی روح قبر میں تڑپ اٹھے گی۔ یہ خیال فوراً ان کے جذبات کو دبادیتا۔ وہ دوبارہ اسی تعمیری راستہ پر چل پڑتے جس میں انھیں ان کے باپ نے چھوڑا تھا۔ ان کا کاروبار بڑھا تو ان کو مزید معاون کی ضرورت ہوئی۔ اب انھوں نے اپنے بھائیوں کو بلانا شروع کیا۔ یہاں تک کہ چاروں بھائی شہر میں منتقل ہو گئے۔ دھیرے دھیرے ان کے کاروبار کے چار مستقل شعبے ہوگئے۔ ہر شعبہ ایک ایک بھائی کے سپرد تھا۔ چاروں بھائی ایک ساتھ مل کر رہتے، اور ساتھ کھاتے پیتے، مگر کاروباری اعتبار سے ہر بھائی اپنے اپنے شعبہ کو آزادانہ طور پر انجام دیتا تھا۔ کچھ دنوں کے بعد رحیم بخش کو محسوس ہوا کہ بڑے بھائی ہونے کی حیثیت سے چونکہ وہی کاروبار کے مالک ہیں اس لئے بقیہ بھائی اپنے کام کو اس دل چسپی سے نہیں کرتے جیسا کہ کوئی آدمی اس وقت کرتا ہے جب وہ کہ کام کو اپنا ذاتی کام سمجھتا ہو۔ اب رحیم بخش کے لیے دو صورتوں میں سے کسی ایک کو انتخاب کرنے کا سوال تھا یا تو کاروبار کو اپنے قبضہ میں لے کر بقیہ تینوں بھائیوں کو اس سے الگ کردیں اور اس کے نتیجہ میں ہمیشہ کے لیے بھائیوں کی دشمنی خریدیں۔ دوسرے یہ کہ معاملات کو اسی طرح چلنے دیں۔ یہاں تک کہ بالآخر وہی ہو جو عام طور پر مشترک کاروبار میں ہوتا ہے۔ یعنی باہمی شکایت اور اس کے بعد تلخ یادوں کے ساتھ کاروبار کی تقسیم۔ رحیم بخش نے چند دن سوچا اور اس کے بعد سب بھائیوں کو جمع کر کے ساری بات صاف صاف ان کے سامنے رکھ دی۔ انھوں نے کہا کہ خدا کے فضل سے ابھی کوئی بات بگڑی نہیں ہے۔ بہترین بات یہ ہے کہ چاروں بھائی ایک ایک کاروبار کو لے اور ہر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader