تربیتِ اولاد
Urdu book, p. 33
By Maulana Wahiduddin Khan
کو صرف یہی ایک ماڈل معلوم ہے، اس کے سوا کسی اور ماڈل کا انہیں علم نہیں۔ اس فیملی کلچر کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ وہ عملاً تحمیقِ خاندان (befooling of family) کے ہم معنی بن گیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ لوگوں کی سوچ کا دائرہ بہت محدود ہو گیا ہے۔ اُن کا ذہن صرف اپنی مادی ضرورتوں کے محدود دائرے میں کام کرتا ہے۔ وہ اس کی ضرورت نہیں سمجھتے کہ وہ اس محدود دائرے کے باہر سوچیں ۔ ان کے یہاں کتابوں کے مطالعے کا ماحول نہیں ہوتا۔ اُن کے یہاں سنجیدہ تبادلۂ خیال (serious discussion) کا رواج نہیں ہوتا۔ ان کے یہاں یہ کلچر نہیں ہوتا کہ وہ رشتے داروں کے علاوہ لوگوں سے ملیں اور اُن سے سیکھنے اور استفادہ کرنے کی کوشش کریں۔ وہ اپنے گھر سے باہر نکلتے ہیں تو جاب کے لیے یا تفریح کے لیے یا شاپنگ کے لیے۔ اس قسم کی چیزوں کے علاوہ، ان کے یہاں ذہنی ارتقا کا کوئی تصور نہیں۔ اس فیملی کلچر کا نقصان یہ ہے کہ لوگ بظاہر مادی اعتبار سے آسودہ زندگی گزار رہے ہیں، لیکن عملاً وہ فکری پس ماندگی (intellectual backwardness) کا شکار ہیں۔ اُن سے کسی سنجیدہ موضوع پر بات کیجیے تو فوراً معلوم ہو جائے گا کہ ان کے اندر کوئی علمی سوچ نہیں، اُن کو حقائق عالم کی معرفت نہیں، زندگی کے زیادہ بڑے مسائل کے بارے میں ان کی کوئی راۓ نہیں۔ بظاہر وہ انسان نظر آئیں گے، لیکن عملاً وہ صرف ایک خوش پوش حیوان (well-dressed animal) کی مانند ہوں گے۔ خاندانی زندگی کی تشکیل اس طرح ہونی چاہیے کہ وہ لوگوں کے لیے اُن کے ذہنی ارتقا (intellectual development) میں مددگار ہو، نہ کہ لوگوں کے ذہنی ارتقا کے لیے وہ ایک مستقل رکاوٹ بن جائے۔ خدا کا اعتراف نہیں آج کل یہ رواج ہے کہ ایک شخص پیسہ کمائے گا اور اس کے بعد وہ ایک کار خرید کر اپنے بیٹے کو دے گا۔ کار کے شیشہ پر لکھا ہوا ہوگا ــــ باپ کی طرف سے تحفہ (Dad's Gift)۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader