Urdu book · تربیتِ اولاد

تربیتِ اولاد

Urdu book, p. 32

By Maulana Wahiduddin Khan

لڑکیوں کی تربیت لڑکیوں کی تربیت کے تعلق سے ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آتی ہے: عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ عَالَ ثَلَاثَ بَنَاتٍ، فَأَدَبُهُنَّ، وَزَوَّجَهُنَّ، وَأَحْسَنَ إِلَيْهِنَّ، فَلَهُ الْجَنَّةَ (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 5147)۔ یعنی ابو سعید الخدری روایت کرتے ہیں کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: جس شخص نے تین لڑکیوں کی پرورش کی۔ پھر ان کو ادب سکھایا یا اور اُن کی شادی کی اور اُن کے ساتھ اچھا سلوک کیا تو اس کے لیے جنت ہے۔ عام مزاج یہ ہے کہ اگر کسی باپ کے یہاں کئی لڑکیاں ہوں، اور کوئی لڑکا نہ ہو تو وہ لڑکیوں کو بے قدر کر دیتا ہے۔ اس حدیث میں اسی ذہن کی تردید کی گئی ہے۔ کسی باپ کے یہاں لڑکا پیدا ہو یا لڑکی، دونوں حالتوں میں باپ کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کو بہترین تعلیم دے۔ وہ اُن کو ایسی تربیت دے جو اُن کے لیے زندگی گزارنے میں مددگار بنے۔ باپ کا رجحان اکثر اپنی اولاد کے لیے یہ ہوتا ہے کہ وہ اُن کے لیے زندگی کی راحتیں فراہم کرے۔ وہ کما کر اُنہیں زیادہ سے زیادہ مال دے سکے۔ مگر یہ نظریہ درست نہیں۔ اولاد کے لیے باپ کا سب سے بہتر عطیہ مال نہیں ہے بلکہ تعلیم ہے۔ باپ کا کمایا ہوا مال اولاد کے لیے بلامحنت کی کمائی (easy money) کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایسا مال اکثر آدمی کو خراب کر دیتا ہے۔ صحیح یہ ہے کہ آدمی اپنی اولاد کو تعلیم دے، اور اس طرح اُنہیں اس قابل بنائے کہ وہ خود محنت کر کے زیادہ بہتر طور پر اپنی زندگی کی تعمیر کریں۔ فیملی کلچر کا نقصان موجودہ زمانے میں خاص طور پر اور مشرقی دنیا میں عام طور پر لوگوں کے درمیان ایک ہی کلچر کا رواج ہے اور وہ فیملی کلچر ہے، یعنی پیسہ کمانا اور گھر والوں کے تقاضے پورا کرنا۔ لوگوں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page