Urdu book · تربیتِ اولاد

تربیتِ اولاد

Urdu book, p. 36

By Maulana Wahiduddin Khan

لٹل گاڈ امریکہ کے سفر میں ایک شادی شدہ خاتون سے ملاقات ہوئی۔ اُن کے ساتھ دو چھوٹے بچے تھے۔ معلوم ہوا کہ یہ خاتون اپنے شوہر سے اختلاف کر کے اپنے بچوں کے ساتھ الگ ایک چھوٹے مکان میں رہتی ہیں۔ میں نے کہا کہ آج کل کے زمانے میں ایک عجیب چیز یہ ہو رہی ہے کہ شوہر کو اپنے بچوں سے محبت ہے، لیکن اس کو اپنی بیوی سے نفرت ہے۔ اسی طرح بیوی کو اپنے بچوں سے محبت ہے، اور اپنے شوہر سے نفرت۔ یہ تضاد کی بات ہے۔ اور فطرت کے قانون کے مطابق، اس قسم کی متضاد سوچ (contradictory thinking) اور ذہنی ارتقا دونوں ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے۔ میں نے کہا کہ آج کل یہ حال ہے کہ شوہر اور بیوی کے لیے اُن کا بچہ عملاً لٹل گاڈ (little god) ہوتا ہے۔ مگر جس شوہر یا جس بیوی کے ذریعے یہ بچہ پیدا ہوا، اُس سے دونوں کو دوری ہوتی ہے۔ کامیابی کا طریقہ ایک صاحب سروس کرتے تھے۔ ایک عرصے تک سروس کرنے کے بعد اُن کو احساس ہوا کہ سروس کی آمدنی بچوں کی ترقی کے لیے کافی نہیں۔ اِس لیے انھوں نے سروس چھوڑ دی اور ایک بزنس شروع کر دیا، تا کہ وہ زیادہ کمائیں اور بچوں کو زیادہ ترقی دلا سکیں، مگر عملاً یہ ہوا کہ بزنس میں اُن کو مطلوب کا کامیابی حاصل نہیں ہوئی ۔ چناں چہ وہ ٹینشن میں مبتلا ہو گئے ۔ آخر کار ، اُن کو کینسر ہو گیا اور بچوں کے لیے زیادہ پیسہ کمانے سے پہلے وہ اس دنیا سے چلے گئے۔ اس طرح کا واقعہ مختلف صورتوں میں اکثر لوگوں کے ساتھ پیش آتا ہے، مگر وہ ہر ایک کے لیے تباہ کن ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ وہ حقیقت پسند (realist) بنیں ۔ وہ اپنی زندگی کا منصوبہ خود اپنی استطاعت کی بنیاد پر بنائیں ، نہ کہ اپنی اولاد کے بارے میں اپنی امنگوں (ambitions) کی بنیاد پر۔ وہ بچوں کے مستقبل کی تعمیر کے معاملے کو خود

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page