تربیتِ اولاد
Urdu book, p. 37
By Maulana Wahiduddin Khan
بچوں پر چھوڑ دیں۔ وہ ایسا ہرگز نہ کریں کہ بچوں کی خاطر اپنے آپ کو تباہ کر لیں اور آخر کار خود بچوں کو بھی۔ بچوں کی ترقی کی سب سے بڑی ضمانت یہ ہے کہ خود اُن کے اندر عمل کا جذبہ پیدا ہو، اُن کے اندر داخلی اسپرٹ جاگے، وہ خود حالات کو سمجھیں اور حالات کے مطابق، اپنی زندگی کی تعمیر کریں۔ ترقی وہ ہے جو آدمی کو خود اپنی محنت سے ملے۔ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی ترقی کوئی ترقی نہیں۔ اس قسم کی خواہش رکھنے والے لوگ اکثر ناکام ہو جاتے ہیں۔ اس کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ اپنے بچوں سے جذباتی تعلق کی بنا پر ایسی چیز کے خواہش مند بن جاتے ہیں جو منصوبہ ء الہی کے مطابق، اُن کو ملنے والی نہیں۔ آدمی کو چاہیے کہ اس معاملے میں وہ اپنے جذبات کے تحت کوئی فیصلہ نہ کرے، بلکہ وہ ایک حقیقت پسند انسان کی طرح حالات پر غور کرے اور فطرت کے قانون کی روشنی میں اپنے عمل کا نقشہ بنائے۔ یہی مطلب ہے اس اصول کا کہ— اس دنیا میں کسی آدمی کو وہی ملتا ہے جو اللہ نے اُس کے لیے مقدر کر دیا ہو، نہ اُس سے زیادہ اور نہ اُس سے کم۔ قناعت اور ترقی کم آمدنی والے لوگوں میں میں نے اکثر ایک مشترک مزاج پایا ہے۔ وہ یہ کہ یہ لوگ اکثر اس فکر میں رہتے ہیں کہ اپنی آمدنی کو کسی نہ کسی طرح بڑھائیں تاکہ اُن کے بچوں کو زیادہ آرام و راحت مل سکے۔ اس قسم کے ایک صاحب کو مشورہ دیتے ہوئے میں نے کہا کہ یہ ایک غلط مزاج ہے۔ یہ مزاج آدمی کو طرح طرح سے نقصان پہنچاتا ہے۔ یہاں تک کہ اُس کا ملا ہوا سکون بھی درہم برہم ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس صحیح مزاج یہ ہے کہ آدمی آئندہ ترقی کے معاملے کو بچوں پر چھوڑ دے۔ اُس کو جو کچھ مل رہا ہے اُس پر وہ راضی رہ کر گزارہ کرنے کی کوشش کرے۔ اس کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader