تربیتِ اولاد
Urdu book, p. 39
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے ۔ باپ نے کچھ چاہا تھا، اور عملاً کچھ اور ہوا۔ اس عام تجربے سے معلوم ہوتا ہے کہ باپ کا کام یہ نہیں ہے کہ وہ رازق بننے کی کوشش کرے۔ باپ کا کام صرف یہ ہے کہ وہ اپنی اولاد کو زندگی کا شعور دے۔ وہ اپنی اولاد کو راز حیات بتائے۔ وہ اپنی اولاد کو خالق کا تخلیقی نقشہ بتائے، نہ یہ کہ وہ خود خالق کی سیٹ پر بیٹھ جائے۔ اس کے علاوہ باپ کچھ بھی کرے، لیکن عملاً وہی ہوگا، جو خالق نے مقدر کیا ہے۔ والدین کی ذمہ داری حدیث کی کتابوں میں ایک روایت آئی ہے۔ اس کا ترجمہ یہ ہے: ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ہر پیدا ہونے والا فطرت (صحیح) پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر اس کے ماں باپ اس کو یہودی بنا دیتے ہیں یا اس کو نصرانی بنا دیتے ہیں یا اس کو مجوسی بنا دیتے ہیں۔ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1358) اس کا مطلب صرف مذہبی معنوں میں یہودی اور عیسائی اور مجوسی بنانا نہیں ہے۔ یہ تو بنانے کی آخری صورت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس میں ہر وہ بگاڑ شامل ہے، جو والدین کے ذریعہ ان کی اولاد میں پیدا ہوتا ہے۔ چنانچہ دوسری روایتوں میں عمومی الفاظ بھی آئے ہیں۔ مثلاً ایک روایت یہ ہے: عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، حَتَّى يُعْرِبَ عَنْهُ لِسَانُهُ، فَإِذَا أَعْرَبَ عَنْهُ لِسَانُهُ، إِمَّا شَاكِرًا، وَإِمَّا كَفُورًا (مسند احمد، حدیث نمبر 14805)۔ یعنی جابر بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ہر پیدا ہونے والا فطرت (صحیح) پر پیدا ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ بولنے لگے۔ پھر جب وہ بولنے لگتا ہے تو وہ شکر گزار یا ناشکرا بن جاتا ہے۔ بچے پیدا ہوتے ہی بولنے نہیں لگتے۔ وہ کچھ عرصہ کے بعد بولتے ہیں۔ بولنا شروع کرنے سے پہلے ان کا ربط ان کی پیدائشی فطرت سے ہوتا ہے، بولنے کے بعد ان کا ربط ان کے قریبی ماحول سے ہو جاتا ہے، جو کچھ ملے اس پر اللہ کا شکر کرنا ہے یا اس کو کسی اور کا عطیہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader