تربیتِ اولاد
Urdu book, p. 40
By Maulana Wahiduddin Khan
سمجھنا ہے، اس کا ابتدائی سبق انھیں اپنے ماں باپ سے ملتا ہے۔ کسی کو چھوٹا دیکھ کر اس کو حقیر سمجھنا یا کسی کو بڑا دیکھ کر ہل اٹھنا، یہ بھی پہلی باران کو اپنے والدین ہی کے ذریعہ معلوم ہوتا ہے۔ اس طرح والدین یا تو اپنے بچوں کو نیک عمل بناتے ہیں یا ان کو بدعمل بنا دیتے ہیں۔ بچہ کا گھر اس کا سب پہلا مدرسہ ہے اور بچہ کے والدین اس کے سب سے پہلے معلم۔ گھر ایک تربیت گاہ ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لأَهْلِهِ، وَأَنَا خَيْرُكُمْ لأَهْلِي (ابن ماجه، حدیث نمبر (1977)۔ یعنی تم میں سب سے اچھا وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے اچھا ہو اور میں تم میں اپنے گھر والوں کے لیے سب سے اچھا ہوں ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ گھر کسی سماج کا ایک ابتدائی یونٹ ہے۔ جو کچھ زیادہ بڑے پیمانہ پر پورے سماج میں پیش آتا ہے وہی گھر کے اندر چھوٹے پیمانہ پر پیش آتا ہے۔ آدمی کے اچھے یا برے ہونے کا فیصلہ باہمی تعلقات کے درمیان ہوتا ہے۔ ہر گھر گویا انہی تجربات کا ایک چھوٹا ادارہ ہے اور ہر سماج انہی تجربات کا ایک بڑا ادارہ۔ ہر عورت یا مرد جب اپنے اہل خانہ کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں تو اُن کو کبھی خوش گوار تجربہ پیش آتا ہے اور کبھی ناخوشگوار تجربہ، کسی معاملہ میں اُن کے اندر نفرت کے جذبات بھڑکتے ہیں اور کبھی محبت کے جذبات، کبھی وہ خوشی سے دوچار ہوتے ہیں اور کبھی ناخوشی سے، کبھی اُن کی انا کو تسکین ملتی ہے اور کبھی اُن کی انا پر چوٹ لگتی ہے، کبھی وہ اعتراف کی صورت حال میں ہوتے ہیں اور کبھی بے اعترافی کی صورت حال میں، کبھی حقوق کی ادائینگی کا موقع ہوتا ہے اور کبھی حقوق کے انکار کا موقع، وغیرہ۔ گھر کے اندر پیش آنے والی یہ مختلف حالتیں ہر عورت اور ہر مرد کے لیے اپنی تیاری کے مواقع ہیں۔ جو لوگ ایسا کریں کہ وہ ہمیشہ اپنے شعورِ ایمان کو زندہ رکھیں، وہ اپنا احتساب کرتے ہوئے زندگی گزاریں، اُن کو ہمیشہ آخرت کی پکڑ کا احساس لگا ہوا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader