Urdu book · تربیتِ اولاد

تربیتِ اولاد

Urdu book, p. 42

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ دنیا کی زندگی امتحان کی زندگی ہے۔ ایک طرح کی زندگی انسان کو جنت کی طرف لے جاتی ہے۔ اور دوسری طرح کی زندگی اُس کو جہنم کا مستحق بنا دیتی ہے۔ زندگی کی اس امتحانی نوعیت کا تعلق گھر کے اندر کے معاملات سے بھی ہے اور گھر کے باہر کے معاملات سے بھی۔ بچوں کی اصلاح ایک خاتون نے کہا کہ آپ بچوں کی تربیت پر مضمون لکھیے۔ موجودہ زمانے میں بچوں کی اصلاح کی بہت ضرورت ہے۔ میں نے کہا کہ بچوں کی اصلاح پر بے شمار مضمون لکھے گئے ہیں۔ ہر روز بچوں کی اصلاح پر تقریریں ہورہی ہیں، لیکن اس کا کوئی بھی نتیجہ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بچوں کی اصلاح کے معاملے میں اصل ضرورت مضمون یا تقریر کی نہیں ہے۔ اِس معاملے میں اصل ضرورت یہ ہے کہ والدین اپنے بچوں کے معاملے میں اپنے رویے کو بدلیں۔ تمام والدین کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ لاڈ پیار (pampering) کا معاملہ کرتے ہیں۔ یہی لاڈ پیار بچوں کے بگاڑ کا اصل سبب ہے۔ جب تک والدین اپنے لاڈ پیار کو ختم نہ کریں، بچوں کی کوئی اصلاح نہیں ہوسکتی۔ میری بات سن کر مذکورہ خاتون نے کہا کہ بچوں کے ساتھ سختی بھی تو نہیں کی جاسکتی۔ میں نے کہا کہ میں نے آپ سے یہ نہیں کہا تھا کہ بچوں کے ساتھ سختی کیجیے۔ میں نے صرف آپ سے یہ کہا تھا کہ بچوں کے ساتھ لاڈ پیار کو چھوڑ دیجیے۔ والدین کا یہی مزاج بچوں کی خرابی کی اصل جڑ ہے۔ آپ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بچوں کے ساتھ لاڈ پیار نہ کرنا اُن کے ساتھ سختی کرنا ہے۔ والدین اپنے بچوں کے لیے اتنے حساس ہوتے ہیں کہ وہ لاڈ پیار نہ کرنے کو سختی کرنا سمجھ لیتے ہیں، اس لیے وہ لاڈ پیار کو چھوڑ نہیں پاتے۔ پھر میں نے کہا کہ آپ خواہ لاڈ پیار کتنا ہی زیادہ کریں، بچوں کے تقاضے کبھی ختم نہیں ہوتے۔ بچے برابر اور زیادہ اور زیادہ کا تقاضا کرتے رہتے ہیں۔ اِس بنا پر والدین یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ہم نے ابھی کچھ نہیں کیا۔ ہم نے ابھی بچوں کے تقاضے پورے نہیں کیے۔ اس بنا پر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page