تربیتِ اولاد
Urdu book, p. 43
By Maulana Wahiduddin Khan
تمام والدین لاڈ پیار کے اس احساس میں مبتلا رہتے ہیں کہ ہم تو لاڈ پیار نہیں کر رہے ہیں۔ ان کے ذہن میں لاڈ پیار کا غلط معیار رہتا ہے، یعنی بچے جب مزید تقاضا کریں تو وہ سمجھیں گے کہ ہم نے لاڈ پیار کیا۔ مگر خواہشات کے معاملے میں بچہ اور بڑا دونوں کا یہ حال ہوتا ہے کہ ان کو کچھ بھی مل جائے، وہ ان کی خواہشوں سے کم ہوتا ہے۔ اس لیے ہمیشہ نئے تقاضے جاری رہتے ہیں۔ بچوں کا بگاڑ ایک صاحب نے کہا کہ آج کل والدین عام طور پر یہ شکایت کرتے ہیں کہ اُن کے بچے بگڑ گئے ہیں۔ اس کا ذمہ دار وہ سب سے زیادہ ٹی وی کو بتاتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ٹی وی نے ان کے بچوں کو بگاڑ دیا ہے۔ انھوں نے پوچھا کہ اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے۔ میں نے کہا کہ یہ سارا معاملہ اگر ٹی وی کا معاملہ ہے تو والدین کیوں اپنے گھر میں ٹی وی رکھتے ہیں۔ بچے خود خرید کر ٹی وی نہیں لاتے ۔ یہ والدین ہیں جو بچوں کو خوش کرنے کے لیے ٹی وی لا کر اپنے گھر میں رکھتے ہیں۔ اس لیے اس معاملے میں اصل ذمے دار خود والدین ہیں، نہ کہ بچے ۔ حقیقت یہ ہے کہ بچوں کے بگاڑ کا اصل سبب لاڈ پیار (pampering) ہے۔ والدین کا نظریہ اپنے بچوں کے بارے میں یہ ہوتا ہے کہ ان کی ہر خواہش کو پورا کیا جائے ۔ بچے جب تک چھوٹے ہیں، ان کی خواہش کھانے اور کپڑے جیسی چیزوں تک محدود رہتی ہے۔ اس لیے چھوٹی عمر میں والدین اپنے نظریے کی غلطی سمجھ نہیں پاتے، لیکن جب بچے بڑے ہوتے ہیں تو اُن کی دلچسپیاں بڑھ جاتی ہیں۔ اب وہ دوستی، آؤٹنگ، کلب اور لوانفیئر (love affair) جیسی چیزوں کی طرف دوڑنے لگتے ہیں۔ جب ایسا ہوتا ہے تو والدین روک ٹوک کرتے ہیں، مگر بچے ان کی روک ٹوک کو قبول نہیں کرتے ۔ یہ بلاشبہ خود والدین کی غفلت کا نتیجہ ہے۔ چھوٹی عمر میں والدین نے اپنے بچوں کے اندر یہ ذہن بنایا کہ میری ہر خواہش

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader