Urdu book · تربیتِ اولاد

تربیتِ اولاد

Urdu book, p. 45

By Maulana Wahiduddin Khan

دونوں، منفی ذہن کا شکار ہو رہے ہیں۔ اُنھیں دنیا کے ہر شخص سے شکایت ہوتی ہے۔ شعوری یا غیر شعوری طور پر ان کا مزاج یہ ہوتا ہے کہ میرے ماں اور باپ بہت اچھے تھے، بقیہ تمام لوگ نہایت برے ہیں۔ اس صورت حال نے آج کی دنیا میں دو چیزوں کا خاتمہ کر دیا ہے ؀ محنت کے ساتھ اپنا کام کرنا، اور لوگوں کا خیر خواہ (well-wisher) بن کر اُن کے درمیان رہنا۔ بچے آرام سے رہیں جولائی 1995 میں مراد آباد کا میرا ایک سفر ہوا۔ وہاں ایک صاحب نے بتایا کہ جو پیسہ والے مسلمان ہیں، ان سے اگر پوچھا جائے کہ تم اتنا زیادہ پیسہ کس لیے اکٹھا کر رہے ہو تو ان کا جواب یہ ہوتا ہے : اس لیے کہ بچے آرام سے رہیں۔ میں نے کہا کہ بچوں کے آرام کے لیے جو لوگ دولت اور جائیداد اکٹھا کریں وہ خود اپنی اولاد کے لیے کوئی عقل مندی نہیں کر رہے ہیں۔ تجربہ یہ ہے کہ بے محنت کے ملی ہوئی دولت آدمی کے اخلاق کو بگاڑتی ہے۔ وہ اس کے اندر سطحیت، حتی کہ آوارگی پیدا کر دیتی ہے۔ بچوں کے ساتھ سب سے پہلی خیر خواہی یہ ہے کہ ان کو اعلیٰ تعلیم دلائی جائے، اور اس کے بعد دوسری ضرورت یہ ہے کہ ان کو محنت کے راستے پر ڈالا جائے۔ فرضی محبت ایک مسلم لڑکی اپنے ماں باپ کی اکیلی اولاد تھی۔ اس کے والدین نے دھوم کے ساتھ اس کی شادی کی۔ اس کے بعد وہ رخصت ہو کر اپنی سسرال گئی۔ اس کے یہاں ایک بچہ بھی پیدا ہو گیا۔ مگر دو سال کے بعد وہ اپنے شوہر سے لڑ جھگڑ کر اپنے ماں باپ کے پاس واپس آگئی۔ اُس نے اپنے ماں باپ سے کہا کہ میرا شوہر نہایت سخت مزاج ہے، اس کے ساتھ میرا نباہ نہیں ہو سکتا۔ لڑکی کے والدین نے اس سے زیادہ پوچھ گچھ (scrutiny) نہیں کی، جو کچھ لڑکی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page