Urdu book · تربیتِ اولاد

تربیتِ اولاد

Urdu book, p. 46

By Maulana Wahiduddin Khan

نے کہا، اس کو انھوں نے درست مان لیا۔ انھوں نے کہا کہ بیٹی، تم فکر نہ کرو۔ ہمارے پاس اللہ کا دیا سب کچھ ہے۔ تم یہاں آرام کے ساتھ رہو، تم کو کہیں جانے کی ضرورت نہیں۔ مجھ سے ملاقات ہوئی تو میں نے لڑکی سے پوچھ گچھ کی، تا کہ اصل حقیقت معلوم ہو سکے۔ لڑکی نے بتایا کہ میرا شوہر ہر معاملے میں سختی کرتا ہے۔ میں نے مثال پوچھی تو اس نے بتایا کہ میرا شوہر مجھ کو شاپنگ کے لیے نہیں لے جاتا، وہ آؤٹنگ (outing) کا پروگرام نہیں بناتا۔ میں نے کہا کہ یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ شاپنگ کا مطلب پیسے کا ضیاع (waste of money) ہے، اور آؤٹنگ کا مطلب وقت کا ضیاع (waste of time) ہے۔ آپ کا شوہر بہت اچھا کرتا ہے کہ وہ آپ کو ایسی بے فائدہ چیزوں سے بچاتا ہے۔ ماں باپ نے لڑکی کے ساتھ جو کچھ کیا، وہ محبت کا واقعہ تھا اور شوہر نے جو کچھ کیا، وہ خیر خواہی کا واقعہ تھا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ محبت کے مقابلے میں، خیر خواہی زیادہ بڑی چیز ہے۔ مگر اکثر لوگ اس فرق کو نہیں جانتے۔ اس لیے وہ محبت کرنے والے کو اپنا ہمدرد سمجھ لیتے ہیں، حالاں کہ اصل ہمدرد وہ ہے جو آپ کے ساتھ سچی خیر خواہی کرے۔ محبت صرف ایک جذباتی چیز ہے، جب کہ خیر خواہی ایک خالص عقلی رویہ ہے۔ وہ شخص بہت خوش قسمت ہے جس کو اپنی زندگی میں ایک سچا خیر خواہ مل جائے۔ خیر خواہی یا بد خواہی ایک باپ نے اپنی بیٹی کی شادی دور کے مقام پر کی۔ یہ بیٹی اپنے میکہ میں اس طرح رکھی گئی تھی کہ اس نے کبھی کوئی کام نہیں کیا۔ اس کے والدین کی کوشش ہمیشہ یہ ہوتی تھی کہ بیٹی خوش رہے۔ اس کو کوئی تکلیف نہ ہونے پائے۔ مگر باپ جانتا تھا کہ سسرال میں ایسا ہونے والا نہیں ہے۔ اس نے بیٹی کو رخصت کرتے ہوئے کہا کہ اب تم جہاں جا رہی ہو، وہ تمھارے لیے ایک مختلف دنیا ہوگی۔ میکہ میں تم کو جو آرام ملا، سسرال میں تم اس کی امید نہ رکھنا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page