تربیتِ اولاد
Urdu book, p. 47
By Maulana Wahiduddin Khan
باپ نے اپنی سمجھ کے مطابق، یہ مشورہ خیر خواہی کے جذبہ کے تحت دیا۔ لیکن حقیقت کے اعتبار سے وہ بدخواہی کا مشورہ تھا۔ حقیقت کے اعتبار سے اس کا مطلب یہ تھا کہ ان کی بیٹی اپنے سسرال میں ہمیشہ منفی ذہن کے تحت رہے۔ وہ ہمیشہ احساس محرومی کا شکار رہے۔ وہ ہمیشہ یہ سمجھتی رہے کہ میرے میکہ کے لوگ بہت اچھے تھے اور میری سسرال کے لوگ بہت برے ہیں۔ میکہ والوں کے لیے اس کے دل میں جھوٹی محبت اور سسرال والوں کے لیے اس کے دل میں جھوٹی شکایت بھر جائے۔ ساری زندگی وہ اس احساس میں جیے کہ میری شادی غلط ہو گئی۔ وہ ہمیشہ میکہ والوں کو اچھا سمجھے اور سسرال والوں کو ہمیشہ برا سمجھتی رہے۔ موجودہ زمانے میں تقریباً ہر ماں باپ اپنی بیٹی کے حق میں اسی قسم کی فرضی خیر خواہی کرتے ہیں جو عملاً بیٹی کے لیے صرف ایک مستقل بدخواہی بن جاتی ہے۔ بیٹی اپنے میکہ کی کنڈیشننگ کی بنا پر خود سے کبھی اس معاملہ کو سمجھ نہیں پاتی، اور ماں باپ کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ اس کی کنڈیشننگ کو مزید پختہ کر دیتے ہیں، وہ اس کی کنڈیشننگ کا خاتمہ نہیں کرتے۔ صحیح یہ ہے کہ باپ یا تو اپنی بیٹی کے ساتھ لاڈ پیار (pampering) کا سلوک نہ کرے، یا کم از کم یہ کرے کہ وہ اپنی بیٹی سے بوقت رخصت کہہ دے کہ ہم نے جو کچھ کیا، وہ غیر فطری طریقہ تھا، فطری طریقہ وہی ہے جس سے تم کو سسرال میں سابقہ پیش آئے گا۔ مستقبل پر نظر ایک صاحب نے اپنی لڑکی کی شادی دور افتادہ مقام پر ایک نوجوان سے کر دی۔ بعد کو معلوم ہوا کہ اس نوجوان کی معاشی حالت بہت کمزور ہے۔ اس کے پاس جو گھر ہے، وہ بھی ٹوٹا پھوٹا ہے۔ سماج میں اس کو کوئی ممتاز حیثیت حاصل نہیں۔ لوگوں کو جب اس شادی کا حال معلوم ہوا تو وہ باپ کو برا بھلا کہنے لگے۔ یہاں تک کہ کچھ لوگوں نے اس کے بارے میں یہ کہا کہ وہ دماغی خلل کا شکار ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader