تربیتِ اولاد
Urdu book, p. 52
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے ۔ اس قسم کی خوش فکری اس دنیا میں کبھی واقعہ بننے والی نہیں ۔ والدین کو چاہیے کہ وہ حقیقت پسند بنیں ، تا کہ وہ اپنی اولاد کے بارے میں مایوسی کا شکار نہ ہوں ۔ بچوں کا دکھ جھیل رہے ہیں ایک سینئر مسلم تاجر سے ایک صاحب نے پوچھا کہ آپ کو خدا نے 95 سال کی عمر دی ، یعنی تقریباً ایک صدی ۔ اس لمبی زندگی میں آپ نے کیا سیکھا اور کیا تجربہ کیا۔ اس سوال کے بعد وہ دو منٹ چپ رہے ۔ اس کے بعد انھوں نے نہایت سنجیدہ انداز میں کہا۔ کوئی تجربہ نہیں ۔ بس پیدا ہوئے ۔ بڑے ہوئے تو بزنس میں لگ گئے ۔ شادی کی اور بچے پیدا کیے ۔ بچوں کو سیٹل (settle) کیا۔ اب آخر عمر میں بچوں کا دکھ جھیل رہے ہیں ، اور موت کا انتظار کر رہے ہیں ۔ موجودہ زمانے میں یہی ہر گھر کی کہانی ہے ۔ موجودہ زمانے میں تقریباً ہر ماں باپ کا یہ حال ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اپنی تمام محبتوں کا مرکز بناتے ہیں ۔ بچوں کی زندگی سنوارنے کے لیے وہ سب کچھ کر ڈالتے ہیں ، مگر آخر میں ہر ایک کا یہ حال ہوتا ہے کہ بچے غیر وفادار نکلتے ہیں ۔ وہ اپنے ماں باپ کو چھوڑ کر اپنی آزاد زندگی بنا لیتے ہیں ۔ موجودہ زمانے میں ماں باپ کی خدمت ایک فرسودہ تصور بن چکا ہے ۔ بچوں کی ترقی کو ماں باپ اس حسرت کے ساتھ دیکھتے رہتے ہیں کہ جس پیڑ کو ہم نے محنت کر کے اگایا تھا ، اُس پیڑ کا سایہ اُنھیں حاصل نہیں ہوا ۔ حدیث میں آیا ہے کہ ایک زمانہ آئے گا ، جب کہ بچے اپنے دوست کے ساتھ حسن سلوک کریں گے ، اور اپنے ماں باپ کے ساتھ بد سلوکی کریں گے (بَرّ صَدِيقَهُ، وَجَفَا أَبَاهُ) سنن الترمذی ، حدیث نمبر 2210 ۔ یہ حدیث رسول ، موجودہ زمانے پر پوری طرح صادق آتی ہے ۔ آج ساری دنیا میں عمومی طور پر ایسا ہی ہو رہا ہے ۔ اس واقعے کا سب سے زیادہ برا حصہ اُن لوگوں کو مل رہا ہے جو ساری زندگی بچوں کو خوش کرنے میں لگے رہتے ہیں ، اور آخر میں ان کے حصے میں غم کے سوا اور کچھ نہیں آتا ۔ مزید یہ کہ ایسے ماں باپ اُس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader