Urdu book · تربیتِ اولاد

تربیتِ اولاد

Urdu book, p. 53

By Maulana Wahiduddin Khan

حدیث کا مصداق ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ سب سے زیادہ گھاٹے میں وہ شخص ہے جو دوسروں کی دنیا بنانے کے لیے اپنی آخرت کو کھودے (أذْھَبَ آخِرَتَہٗ بِدُنْیَا غَیْرِہٖ) سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3966۔ اہل و عیال کا فتنہ حدیث کی کتابوں میں اہل و عیال کے بارے میں بہت سی روایتیں آئی ہیں۔ اُن میں سے دو روایتیں یہاں نقل کی جاتی ہیں : حضرت عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: الوَيْلُ كُلُّ الوَيْلِ لِمَنْ تَرَكَ عِيَالَہٗ بِخَيْرٍ وَقَدِمَ عَلَى رَبِّہِ بِشَرٍّ (مسند الشهاب القضاعی، حدیث نمبر 314 )۔ یعنی کامل تباہی و بربادی ہے اُس شخص کے لیے جس نے اپنے عیال کو اچھی حالت میں چھوڑا، اور خود برے حال میں اپنے رب کے پاس پہنچا۔ دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں: يُؤْتَى بِرَجُلٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُقَالُ أَكَلَ عِيَالِہٖ حَسَنَاتِہٖ (تخریج الأحاديث في تفسير الكشاف للزيلعی، حدیث نمبر 1357)۔ یعنی قیامت کے دن ایک شخص لایا جائے گا اور کہا جائے گا کہ اس کے اہل و عیال اس کی نیکیاں کھا گئے۔ قدیم زمانے میں صرف کچھ افراد اس قسم کے ہوتے تھے، لیکن موجودہ زمانے میں اس پہلو سے بگاڑ کا یہ حال ہے کہ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے تمام لوگ اس تباہ کن کمزوری کا شکار ہو گئے ہیں۔ اس کمزوری کا سبب حبِ عیال ہے۔ بظاہر لوگ خدا کا اور اسلام کا نام لیتے ہیں، لیکن اُن کی محبتیں صرف اپنے اہل و عیال سے ہوتی ہیں۔ لوگوں کا حال یہ ہے کہ اُن کا سب سے بڑا کنسرن اُن کے اہل و عیال ہوتے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو اور اپنے مال و اسباب کو اپنے اہل و عیال کے لیے وقف کیے رہتے ہیں۔ موت ایسے لوگوں کے لیے ایک جبری انقطاع (compulsive detachment) کے طور پر آتی ہے۔ ایسے لوگ جب موت کے بعد خدا کے پاس پہنچتے ہیں تو وہاں کے لیے اُن کے پاس کچھ نہیں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page