Urdu book · تربیتِ اولاد

تربیتِ اولاد

Urdu book, p. 62

By Maulana Wahiduddin Khan

کرے تو اس کوٹو کیا جائے۔ حتیٰ کہ اگر ضرورت ہو تو اس کی تنبیہ کی جائے۔ بھائی بہنوں میں لڑائی ہو تو فورا سمجھایا جائے۔ اگر کبھی بچہ جھوٹ بولے یا کسی کو گالی دے۔ یا کسی کی چیز چرالے تو نہایت سختی کے ساتھ اس کا نوٹس لیا جائے۔ اور یہ سب بالکل بچپن سے کیا جائے تا کہ بچہ کو زندگی میں یہ چیزیں مستقل کردار کے طور پر شامل ہو جائیں۔ یہی طریقہ ڈسپلن کے بارے میں اختیار کرنا ہے۔ بچہ کو اوقات کی پابندی سکھائی جائے۔ چیزوں کو صحیح جگہ رکھنے کی عادت ڈالی جائے۔ کھانا پینا باقاعدہ وقت کے ساتھ ہو۔ اگر وہ کوئی کاغذ یا تھیلی سڑک پر پھینک دے تو فورا اسی سے اس کو اٹھوایا جائے۔ شور کرنے سے روکا جائے، ہر ایسی چیز سے بچنے کی تلقین کی جائے جس سے دوسروں کو تکلیف پہنچتی ہو۔ بچہ کی حقیقی تربیت کے لیے خود ماں باپ کو اپنا طرز زندگی اس کے مطابق بنانا ہوگا۔ اگر آپ اپنے بچہ سے کہیں کہ جھوٹ نہ بولو، اسی کے ساتھ آپ یہ کریں کہ جب کوئی شخص دروازہ پر دستک دے تو کہلوادیں کہ وہ اس وقت گھر پر نہیں ہیں تو ایسی حالت میں بچہ کو جھوٹ سے روکنا بے معنی ہوگا۔ اگر آپ سگریٹ پیتے ہوں تو بچہ کے سامنے اسموگنگ کے خلاف تقریر کرنا بے معنی ہے۔ اگر آپ وعدہ پورا نہ کرتے ہوں اور بچہ سے کہیں کہ بیٹے، ہمیشہ وعدہ پورا کرو، تو کبھی ایسی نصیحت کو نہیں پکڑے گا۔ بچہ اپنے والدین کو ماڈل کے روپ میں دیکھتا ہے۔ اسی طرح بڑا بچہ چھوٹے بچوں کے لیے ماڈل ہوتا ہے۔ اگر والدین اور بڑا بچہ ٹھیک ہو تو بقیہ بچے اپنے آپ سدھرتے چلے جائیں گے۔ اخلاقی زہر 6 جنوری 1990ء کو دہلی (شکرپور) میں ایک دردناک واقعہ ہوا۔ کچھ چھوٹے بچے ایک میدان میں کھیل رہے تھے۔ وہاں ایک طرف کوڑے کا ڈھیر تھا۔ وہ کھیلتے ہوئے اس کوڑے تک پہنچ گئے ۔ یہاں انھیں ایک پڑی ہوئی چیز ملی۔ یہ کوئی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page