Urdu book · تربیتِ اولاد

تربیت اولاد

Urdu book, p. 61

By Maulana Wahiduddin Khan

کارزار میں داخل کریں۔ یہ دیکھا گیا ہے کہ والدین اپنی محبت کا استعمال زیادہ تر اس طرح کرتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کی ہر خواہش پوری کرنے میں لگے رہتے ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ بچہ جو چاہے وہ اس کے لیے حاضر کر دیا جائے، یہی بچہ کے لیے محبت کا سب سے زیادہ بڑا استعمال ہے، مگر یہ بچوں کے حق میں خیر خواہی نہیں۔ چھوٹا بچہ اپنی خواہشوں کے سوا کچھ اور نہیں جانتا۔ اس کی سوچ بس یہ ہوتی ہے کہ اس کے دل میں جو خواہش آئے وہ فوراً پوری ہو جائے۔ مگر یہ طفلانہ سوچ ہے۔ کیونکہ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ بچہ ایک دن بڑا ہوگا۔ وہ بڑا ہو کر دنیا کے میدان میں داخل ہوگا۔ زندگی کے اس اگلے مرحلہ میں کامیاب ہونے کے لیے بچہ کو جس چیز کی ضرورت ہے وہ یہ کہ وہ آداب حیات سے مسلح ہو کر وہاں پہنچا ہو۔ بچہ جب بالکل چھوٹا ہو اسی وقت سے اس کی تعلیم و تربیت کا سلسلہ شروع کر دینا چاہیے تا کہ یہ چیزیں عادت بن کر اس کی زندگی میں داخل ہو جائیں۔ زندگی کے ان آداب کے تین خاص پہلو ہیں: دین، اخلاق اور ڈسپلن۔ دین کے اعتبار سے بچہ کی تربیت کا آغاز پیدائش کے فوراً بعد ہو جاتا ہے جب کہ اس کے کان میں اذان کی آواز داخل کی جاتی ہے۔ یہ علامتی انداز میں اس بات کا اظہار ہے کہ بچہ کو دین دار بنانے کا عمل آغاز عمر ہی سے شروع کر دینا ہے۔ یہ کام ماں اور باپ دونوں کو کرنا ہے۔ والدین کی یہ کوشش ہونی چاہیے کہ بچہ کے اندر توحید اور اسلامی عقائد خوب پختہ ہو جائیں۔ ذکر اور عبادت اس کی زندگی کے لازمی اجزاء بن کر اس کی شخصیت میں شامل ہو جائیں۔ وہ نماز، روزہ کا پابند ہو۔ صدقہ اور خیرات کا شوق اس کے اندر پیدا ہو جائے۔ قرآن اور حدیث سے اس کو اس قدر شغف ہو جائے کہ وہ روزانہ اس کا کچھ نہ کچھ حصہ مطالعہ کرنے لگے۔ اس کو دیکھ کر ہر آدمی یہ کہہ دے کہ یہ بچہ ایک دین دار بچہ ہے۔ اخلاق کی تربیت کی صورت یہ ہے کہ ہر موقع پر بچہ کو سکھایا جائے۔ اگر وہ غلطی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page