ایک مثال
Urdu book, p. 64
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک مثال ریڈیو میں ایک پروگرام آتا ہے جو صرف عورتوں کے لیے ہوتا ہے۔ اس میں عورتوں سے متعلق مختلف عنوانات دیے جاتے ہیں۔ اسی پروگرام کے تحت، ایک دن ماں اور اس کے بچوں کے درمیان تعلقات کا موضوع زیر بحث تھا۔ کئی ماؤں نے اس پہلو سے اپنے تجربات کو بیان کیا۔ مثلاً ایک ماں نے کہا کہ میرے دو بچے ہیں۔ ایک بیٹا اور ایک بیٹی۔ میں ایک ورکنگ وومن (working woman) ہوں۔ مجھے اپنے جاب کے لیے روزانہ گھر سے باہر جانا پڑتا ہے۔ جب میں باہر جاتی ہوں تو اپنے بچوں سے سختی کے ساتھ یہ کہہ کر جاتی ہوں کہ دیکھو، یہ کرنا اور وہ نہ کرنا۔ پھر اس نے ہنستے ہوئے کہا کہ میری بیٹی کہتی ہے ۔ ممّی، تم تو ہٹلر ممی ہو۔ گفتگو ٹیلی فون پر ہو رہی تھی۔ ریڈیو کی خاتون ماڈریٹر (moderator) نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ آپ اپنے بچوں کو آرڈر کرتی ہیں۔ مذکورہ خاتون نے فوراً کہا کہ نہیں نہیں، میں آرڈر نہیں کرتی۔ مذکورہ خاتون نے اپنے بچوں کے بارے میں جو بات کہی، وہ بلاشبہ آرڈر دینے والی بات تھی۔ اس کی تصدیق خود اس کی اپنی بیٹی کے ریمارک سے ہوتی ہے۔ اس کے باوجود، مذکورہ خاتون نے کہا کہ نہیں نہیں۔ یہی موجودہ زمانے میں تقریباً تمام عورتوں اور مردوں کا حال ہے۔ وہ ایک بات کہیں گے اور جب اُن سے مزید پوچھا جائے تو وہ فوراً الفاظ بدل کر کہہ دیں گے کہ نہیں، میرا یہ مطلب نہیں۔ یہ بھی جھوٹ کی ایک قسم ہے۔ عام جھوٹ اگر کھلا ہوا جھوٹ ہوتا ہے تو یہ جھوٹ ایک چھپا ہوا جھوٹ (کذبِ خفی) ہے۔ اس قسم کا جھوٹ کسی انسان کے لیے نہایت تباہ کن ہے۔ وہ آدمی کے اندر کم زور شخصیت (weak personality) پیدا کرتا ہے۔ جن لوگوں کے اندر کم زور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader