Urdu book · تربیتِ اولاد

تربیتِ اولاد

Urdu book, p. 65

By Maulana Wahiduddin Khan

شخصیت ہو، اُن کا ذہنی ارتقا نہیں ہو سکتا۔ ایسے لوگوں کے اندر جتنی شخصیت کی تعمیر نہیں ہو سکتی۔ آخرت کی دنیا میں ایسے کم زور شخصیت والے لوگ، خدا کے پڑوس میں جگہ پانے سے محروم رہیں گے۔ کھلا ہوا جھوٹ اگر حرام ہے، تو چھپا ہوا جھوٹ انسانی شخصیت کے لیے ہلاکت خیز ہے۔ اولاد سے تربیت ایک صاحب سگرٹ کے عادی تھے اور روزانہ تین پیکٹ پی جاتے تھے۔ ’’سگرٹ پینا صحت کے لئے مضر ہے‘‘، ’’سگرٹ پینا اپنے کمائے ہوئے پیسہ کو آگ لگانا ہے‘‘۔ اس قسم کی کوئی بھی دلیل ان کو سگرٹ چھوڑنے پر آمادہ نہیں کر سکتی تھی۔ حتیٰ کہ وہ اپنے دوستوں کو بھی اصرار کر کے پلاتے۔ چائے پینے کے بعد وہ سگرٹ کا کش لینے کو اتنا ضروری سمجھتے تھے کہ وہ اپنے دوستوں سے کہتے ’’جو آدمی چائے پی کر سگرٹ نہ پئے اس کو چاہئے پینے کا حق نہیں‘‘۔ مگر ایک چھوٹے سے واقعہ نے ان کی محبوب سگرٹ ان سے چھڑا دی۔ سگرٹ کے ٹکڑے جو وہ پینے کے بعد پھینکتے ان کو ان کا تین سالہ بچہ فاروق قیر اٹھا لیتا اور منہ میں لگا کر پیتا۔ ملک عبد الشکور صاحب اس کو منع کرتے مگر وہ نہ مانتا۔ ایک روز ایسا ہوا کہ بچہ کی ماں نے سختی سے بچہ کو منع کیا تو بچہ نے کہا: ’’ابا بھی تو پیتے ہیں‘‘، ملک عبد الشکور صاحب نے بچہ کی زبان سے یہ سنا تو ان کو سخت جھٹکا لگا۔ اگر چہ وہ دوستوں کے سامنے اپنی سگرٹ نوشی پر قصیدہ پڑھتے تھے، مگر ان کا دل خوب جانتا تھا کہ سگرٹ پینا ایک بری عادت ہے جس کا انجام نہ صرف صحت اور پیسہ کی بربادی ہے بلکہ وہ اخلاق کو بھی بگاڑنے والا ہے۔ جب کوئی شخص ان سے سگرٹ چھوڑنے کو کہتا تو وہ اس کے خلاف لفظی دلائل کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page