Urdu book · تربیتِ اولاد

اولاد سے تربیت

Urdu book, p. 66

By Maulana Wahiduddin Khan

انبار لگا دیتے ۔ مگر ان دلائل کی حقیقت اس کے سوا اور کچھ نہ تھی کہ وہ اپنے ایک ’’نشہ‘‘ کو چھوڑنے کے لئے تیار نہ تھے ، اور اس کے لئے بھی تیار نہ تھے کہ اپنی غلطی کو مان لیں ۔ اس لئے وہ لفظی تاویلات کے سہارے اپنے کو حق بجانب ثابت کرتے تھے ۔ وہ اس کی ضرورت ہی نہیں سمجھتے تھے کہ سگریٹ کے خلاف کسی دلیل پر سنجیدگی کے ساتھ غور کریں۔ مگر جب سگریٹ کا سوال بچے کی زندگی کا سوال بن گیا تو اچانک وہ سنجیدہ ہو گئے۔ ان کے ذہن سے وہ تمام پردے ہٹ گئے جنھوں نے ایک سادہ سی حقیقت کو سمجھنا ان کے لئے ناممکن بنا دیا تھا۔ جو شخص مضبوط دلائل کے آگے ہتھیار ڈالنے پر تیار نہ ہوتا تھا وہ ایک بچہ کے کمزور الفاظ کے آگے بالکل ڈھ گیا ۔ ’’اگر میں خود سگریٹ پیتا ہوں تو میں اپنے بچہ کو سگریٹ پینے سے باز نہیں رکھ سکتا‘‘۔ انھوں نے سوچا ، بچہ کا یہ کہنا کہ ’’ابا بھی تو پیتے ہیں‘‘ ان کے لئے ایک ایسا ہتھوڑا بن گیا جس کی ضرب کو برداشت کرنے کی طاقت ان کے اندر نہ تھی۔ بچہ کی زبان سے یہ الفاظ سن کر ان کو سخت جھٹکا لگا۔ انھوں نے ایک لمحہ کے اندر وہ فیصلہ کر لیا جس کے لیے ان کے دوستوں کو مہینوں اور سالوں کی کوشش بھی ناکافی ثابت ہوئی تھی۔ یہ رمضان کا مہینہ تھا۔ انھوں نے طے کر لیا کہ وہ سگریٹ پینا بالکل چھوڑ دیں گے۔ انھوں نے صرف اگلے دن سگریٹ نہیں پی بلکہ مستقل طور پر سگریٹ نوشی ترک کر دی۔ ان کو سگریٹ سے محبت تھی۔ مگر بیٹے سے اس سے زیادہ محبت تھی۔ اس نے بیٹے کی خاطر سگریٹ کو چھوڑ دیا۔ اسی طرح ہر آدمی کو اپنے مفادات اور مصالح سے محبت ہوتی ہے۔ اسلام یہ ہے کہ خدا کی محبت اتنی بڑھ جائے کہ اس کی خاطر آدمی دنیا کے مفادات اور مصالح کو قربان کر دے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page