تربیتِ اولاد
Urdu book, p. 69
By Maulana Wahiduddin Khan
سمجھتا ہے کہ میرا کوئی سہارا نہیں، اس لیے مجھے کو خود ہی سارا عمل کرنا ہے۔ اس طرح وہ دوسروں سے زیادہ محنت کرنے لگتا ہے۔ یتیمی کے حالات آدمی کو ہیرو بنا دیتے ہیں۔ ڈفرنٹلی ایبلڈ پرسن اکتوبر 2000ء میں میں نے بھوپال کا سفر کیا ۔ اس دوران میں نے جو چیزیں دیکھیں، ان میں سے ایک رفاہی ادارہ بھی تھا، جو ڈفرنٹلی ایبلڈ بچوں کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ اس کا نام شبھم وکलांग سیوا سمیتی ہے۔ یہ ادارہ 1980ء میں قائم ہوا ہے۔ میں نے ان بچوں کو دیکھا جن کی تعداد 63 ہے ان میں ہندو اور مسلمان دونوں بچے شامل ہیں۔ میں نے کئی بچوں سے بات کی دو بچوں سے ہونے والی بات کو یہاں نقل کیا جاتا ہے۔ سنتوش چورسیا (عمر 14 سال) سے میں نے پوچھا کہ آپ یہاں کیا کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پڑھتے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ آپ کیا سوچتے ہیں۔ انھوں نے جواب دیا کہ پڑھ لکھ کر میں اپنے پیروں پر کھڑا ہوں گا۔ ایک بچہ جس نے اپنا نام شنکر شرما (عمر 12 سال) بتایا۔ وہ بھی اپنے دونوں پیروں سے معذور تھا۔ میں نے پوچھا کہ آپ پڑھنے کے بعد کیا کریں گے۔ اس نے جواب دیا میں پڑھ کر اپنے پیروں پر کھڑا ہونا چاہتا ہوں۔ یہ بات وہ بچے کہہ رہے تھے جو اپنے دونوں پیروں سے معذور تھے اور جسمانی طور پر کھڑے نہیں ہو سکتے تھے۔ میں نے سوچا کہ علم میں کیسی عجیب طاقت ہے۔ علم آدمی کو اس حد تک باشعور بناتا ہے کہ وہ جسمانی طور پر کمزور ہوتے ہوئے بھی ذہنی طور پر اتنا طاقتور ہو جائے کہ اس کی جسمانی کمزوری ترقی کی راہ میں حائل نہ ہو سکے۔ مزید یہ کہ موجودہ زمانے میں یہ بات ریسرچ سے ثابت ہوگئی ہے کہ کوئی شخص مطلق معنوں میں قوی یا ضعیف نہیں ہوتا۔ چنانچہ پہلے معذور کے لیے ڈس ایبلڈ (disabled) کا لفظ بولا جاتا تھا۔ مگر اب یہ لفظ متروک ہو گیا ہے۔ اب ایسے افراد کو ڈفرنٹلی ایبلڈ (differently abled) کہا جاتا ہے۔ یعنی ایک اعتبار سے معذور اور دوسرے اعتبار سے طاقت ور۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader