Urdu book · تربیتِ اولاد

استحقاق پیدا کیجئے

Urdu book, p. 70

By Maulana Wahiduddin Khan

استحقاق پیدا کیجئے ایم اے خان ہائر سیکنڈری کے امتحان میں اچھے نمبر سے پاس ہوئے تھے۔ مگر کسی وجہ سے وہ بروقت آگے داخلہ نہ لے سکے۔ یہاں تک کہ اکتوبر کا مہینہ آ گیا۔ اب بظاہر کہیں داخلہ ملنے کی صورت نہ تھی۔ تاہم تعلیم کا شوق ان کو ہندوسائنس کالج کے پرنسپل دفتر میں لے گیا۔ ’’جناب، میں بی ایس سی میں داخلہ لینا چاہتا ہوں‘‘ انھوں نے ہندو پرنسپل سے کہا۔ ’’یہ اکتوبر کا مہینہ ہے، داخلے بند ہو چکے ہیں۔ اب کیسے تمھارا داخلہ ہوگا‘‘ ’’بڑی مہربانی ہوگی اگر آپ داخلہ لے لیں۔ ورنہ میرا پورا سال بیکار ہو جائے گا‘‘ ’’ہمارے یہاں تمام سیٹیں بھر چکی ہیں۔ اب مزید داخلہ کی کوئی گنجائش نہیں‘‘ پرنسپل اتنی بے رخی برت رہا تھا کہ بظاہر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ ہرگز داخلہ نہیں لے گا اور اگلا جملہ طالب علم کو شاید یہ سننا پڑے گا کہ ’’کمرہ سے نکل جاؤ‘‘، مگر طالب علم کے اصرار پر اس نے بدل دلی سے پوچھا ’’تمھارے مارکس کتنے ہیں‘‘۔ پرنسپل کا خیال تھا کہ اس کے نمبر یقیناً بہت کم ہوں گے۔ اسی لیے اس کو کہیں داخلہ نہیں ملا۔ چنانچہ طالب علم جب اپنے خراب نتیجہ کو بتائے گا تو اس کی درخواست کو رد کرنے کے لیے معقول وجہ ہاتھ آجائے گی۔ مگر طالب علم کا جواب اس کی امید کے خلاف تھا۔ اس نے کہا جناب 85 فی صد: "Sir, eighty five per cent." اس جملہ نے پرنسپل پر جادو کا کام کیا۔ فوراً اس کا موڈ بدل گیا۔ اس نے کہا ’’بیٹھو بیٹھو‘‘ اس کے بعد اس نے طالب علم کے کاغذات دیکھے، اور جب کاغذات نے تصدیق کردی کہ واقعی وہ پچاسی فی صد نمبروں سے پاس ہوا ہے، تو اسی وقت اس نے پچھلی تاریخ میں درخواست لکھوائی۔ اس نے ایم اے خان کو نہ صرف تاخیر کے باوجود اپنے کالج میں داخل کر لیا بلکہ کوشش کر کے ان کو ایک وظیفہ بھی دلوایا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page