استحقاق پیدا کیجئے
Urdu book, p. 71
By Maulana Wahiduddin Khan
یہی طالب علم اگر اس حالت میں پرنسپل کے پاس جاتا کہ وہ تھرڈ کلاس پاس ہوتا اور پرنسپل اس کا داخلہ نہ لیتا تو طالب علم کا تاثر کیا ہوتا۔ وہ اس طرح لوٹتا کہ اس کے دل میں نفرت اور شکایت بھری ہوتی۔ وہ لوگوں سے کہتا کہ یہ سب تعصب کی وجہ سے ہوا ہے۔ ورنہ میرا داخلہ ضرور ہونا چاہیے تھا۔ داخلہ نہ ملنے کی وجہ اس کا خراب نتیجہ ہوتا مگر اس کا ذمہ دار وہ ہندو کالج کو قرار دیتا۔ ماحول کا رد عمل اکثر خود ہماری حالت کا نتیجہ ہوتا ہے۔ مگر ہم اس کو ماحول کی طرف منسوب کر دیتے ہیں تا کہ اپنے آپ کو بری الذمہ ثابت کر سکیں۔ اگر آدمی نے خود اپنی طرف سے کوتاہی نہ کی ہو، اگر زندگی میں وہ ان تیاریوں کے ساتھ داخل ہوا ہو جو زمانہ نے مقرر کی ہیں تو دنیا اس کو جگہ دینے پر مجبور ہوگی۔ وہ ہر ماحول میں اپنا مقام پیدا کر لے گا، وہ ہر بازار سے اپنی پوری قیمت وصول کرے گا۔ مزید یہ کہ ایسی حالت میں اس کے اندر اعلیٰ اخلاقیات کی پرورش ہوگی۔ وہ اپنے تجربات سے جرأت، اعتماد، عالی حوصلگی، شرافت، دوسروں کا اعتراف، حقیقت پسندی، ہر ایک سے صحیح انسانی تعلق کا سبق سیکھے گا۔ وہ شکایت کی نفسیات سے بلند ہو کر سوچے گا۔ ماحول اس کو تسلیم کرے گا۔ اس لیے وہ خود بھی ماحول کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوگا۔ اس کے برعکس اگر اس نے اپنے کو اہل ثابت کرنے میں کوتاہی کی ہو۔ اگر وہ وقت کے معیار پر پورا نہ اترتا ہو۔ اگر وہ کم تر لیاقت کے ساتھ زندگی کے میدان میں داخل ہوا ہو تو لازماً وہ دنیا کے اندر اپنی جگہ بنانے میں ناکام رہے گا۔ اور اس کے نتیجہ میں اس کے اندر جو اخلاقیات پیدا ہوں گی، وہ بلاشبہ پست اخلاقیات ہوں گی۔ وہ شکایت، جھنجلاہٹ، غصہ، حتیٰ کہ مجرمانہ ذہنیت کا شکار ہو کر رہ جائے گا۔ جب آدمی ناکام ہوتا ہے تو اس کے اندر غلط قسم کی نفسیات ابھرتی ہیں۔ اگرچہ آدمی کی ناکامی کی وجہ ہمیشہ اپنی کمزوری ہوتی ہے۔ مگر ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو قصور وار ٹھہرائے۔ وہ ہمیشہ اپنی ناکامیوں کے لئے دوسروں کو مجرم ٹھہراتا ہے۔ وہ صورت حال کا حقیقت پسندانہ تجزیہ کرنے سے قاصر رہتا ہے۔ کمتریاری آدمی کو بیک وقت دو قسم کے نقصانات کا تحفہ دیتی ہے — اپنے لیے بے جا طور پر ناکامی اور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader